تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 567
تاریخ احمدیت۔جلد 24 545 سال 1968ء مولا نا محمد یعقوب خاں صاحب کے قلبی تاثرات جیسا کہ پچھلے صفحات پر ذکر آچکا ہے کہ ماہ جون ۱۹۶۸ء میں جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث بنگلہ بھور بن قرب مری میں قیام فرما تھے تو غیر مبایعین کے ہفت روزہ انگریزی اخبار (The Light) کے ایڈیٹر محترم مولانا محمد یعقوب خاں صاحب نے ۲۵ جون ۱۹۶۸ء کو ایبٹ آباد سے بذریعہ موٹر کارمری پہنچ کر حضور سے ملاقات کا خصوصی شرف حاصل کیا۔اس ملاقات کے قلبی تاثرات آپ نے ”بھوربن میں ایک روح پرور نظارہ “ کے عنوان سے بایں الفاظ رقم فرمائے :۔ایک عزیز کی تحریک پر جو جماعت احمد یہ ربوہ سے تعلق رکھتے ہیں میں نے جماعت احمد یہ ربوہ کے امام سے مستفید ہونے کا ارادہ کیا۔چنانچہ ایک دن چل پڑا۔بھور بن مری کے مضافات میں ایک جگہ ہے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب وہاں کے ریسٹ ہاؤس میں مقیم ہیں۔چنانچہ ہم راستہ دریافت کرتے کرتے سیدھے وہاں پہنچے۔جب حضرت صاحب کو علم ہوا تو وہ اپنی قیام گاہ سے نکل آئے۔میں نے انہیں آتے ہوئے دیکھا تو میرا احساس یہ ہوا ان کے نورانی چہرے کو دیکھ کر کہ گویا افق سے روحانیت کا چاند طلوع ہوا ہے اور اسی وقت مجھے یہ بھی خیال آیا کہ میں جماعت احمد یہ ربوہ کے دوستوں کو مبارکباد دوں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا بلند پایہ امام دیا ہے۔چنانچہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے مجھے اس سے بہتر ذریعہ نہیں نظر آیا کہ الفضل کے کالموں کا رہین منت ہو جاؤں اس لئے یہ چند سطور بغرض اشاعت لکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ احمدیت کا درخت ابھی پھل دے رہا ہے اور ایسی ہستیاں پیدا کرتا ہے کہ جن کو ایک نظر دیکھ کر ہی انسان کا دل نور ایمان سے پُر ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولا د سے بہت توقعات وابستہ کی ہیں کہ سلسلہ کے فروغ و ترقی میں ان کو بہت دخل ہوگا۔حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب یقیناً ان توقعات کو پورا کرنے والے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے عہد خلافت میں احمد یہ تحریک کو بہت عروج حاصل ہوگا۔موجودہ دور کے انسان کو ایک زندہ خدا کی تلاش ہے اور حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کے محض چہرے پر ایک نظر ڈالنے سے انسان محسوس کرتا ہے کہ زندہ خدا موجود ہے۔ان چند سطور کے پیچھے میرا جذبہ یہ ہے کہ میں جماعت احمدیہ کو مبارکباد دوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو ایسا لیڈر عطا کیا ہے جس کی شخصیت ہر قسم کے تصنع سے بالا تر ہے۔میں نے