تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 568 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 568

تاریخ احمدیت۔جلد 24 546 سال 1968ء بہت سے مذہبی پیشوا د یکھے ہیں جو ہفتے کے سات دنوں میں سے چھ دن اپنے جبہ و دستار اور ریش کے میک اپ پر صرف کرتے ہیں یہاں میں نے اس کے الٹ سادگی دیکھی جو حقیقی روحانیت کی روح ہے۔بناوٹ اور میک اپ کہیں کوسوں بھی ان کے نزدیک نہیں گئی اور اس لئے ان کو محض دیکھنا ہی انسان کے اندر نور ایمان پیدا کرتا ہے۔حضرت صاحب نے مجھے بتایا کہ یورپ کے دورے میں لوگوں نے ان سے کیا کیا سوالات کئے اور انہوں نے کیا کیا جوابات دیئے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ ان کے دورے کی کامیابی کا راز ان کی اپنی شخصیت میں تھا۔یورپ کے لوگ بڑے قیافہ شناس بھی ہیں جس چہرے پر اتنی طمانیت برس رہی ہو اور اس قدر تقدس ہو جو میں نے حضرت صاحب کے چہرے پر دیکھا اس سے زیادہ مؤثر تبلیغ یورپ میں اور کوئی نہیں ہو سکتی۔غیر مبایعین کی تنقید کا جواب ان قلبی تاثرات کی اشاعت پر اخبار ”پیغام صلح لا ہور نے مولا نا صاحب محترم اور جماعت مبائعین کے خلاف متعدد مضامین لکھے۔جن کے جواب میں آپ نے ۵ ستمبر ۱۹۶۸ء کوایڈیٹر افضل کے نام حسب ذیل مکتوب سپر د قلم فرمایا:۔0/9/71" مکرم محترم جناب ایڈیٹر صاحب الفضل آپ کے موقر جریدہ میں میرا جو بیان شائع ہوا تھا جس میں میں نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سے ملاقات کے متعلق اپنے تاثرات قلمبند کئے تھے اس سے جماعت لاہور کے حلقوں میں غم وغصہ کی ایک لہر دوڑ گئی اور چاروں طرف سے مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ میں اس کی وضاحت کروں۔لفظ تو وضاحت استعمال کیا جاتا ہے مگر منشاء یہ ہے کہ اس کی تردید کروں۔بعض دوستوں نے اپنی طرف سے مجھے ایک معقول تو جیہ بھی لکھ بھیجی ہے اور وہ یہ کہ مجھ سے وہ بیان بعض احباب نے دباؤ ڈال کر یا اثر ڈال کر لکھوایا ہے۔اس مطالبہ کی تعمیل میں یہ بیان ارسال خدمت ہے۔پیغام صلح میں اس واسطے نہیں بھیجتا کہ مجھے اندیشہ ہے وہ لوگ اس وضاحتی بیان کو بھی توڑ مروڑ کر شائع نہ کر دیں۔والسلام خاکسار محمد یعقوب خاں میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ جو بیان میں نے لکھا تھا بلکہ لکھوایا تھا اس میں کسی بیرونی اثر یا دباؤ کا قطعا دخل نہ تھا اور خود میرا تاثر یہ تھا کہ تصرف الہی نے وہ بیان مجھ سے لکھوایا تھا۔