تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 537
تاریخ احمدیت۔جلد 24 515 سال 1968ء ”اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا تو اس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ یہاں سے سرک کر وہاں چلا جا اور وہ چلا جائے گا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہو گی“۔اور پھر انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے:۔”اور تم جو کچھ دعامیں ایمان کے ساتھ مانگو گے وہ سب تم کو ملے گا“۔جناب والا! یہ بالکل سچ ہے کہ زندہ ایمان سے زندگی کے آثار ظاہر ہونے چاہئیں۔ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیرو ہیں اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا مذہب یعنی اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔ہم اس بات پر بھی پختہ ایمان رکھتے ہیں کہ اگر جناب والا کلیسیائے انگلستان کے روحانی پیشوا کی حیثیت سے اسلام اور عیسائیت کی صداقت کو پر کھنے کے لئے تیار ہوں تو خدا یقیناً ایسا ہی کرے گا کہ اچھا درخت اچھے پھل لائے۔وہ اپنے پیارے بیٹے کو مچھلی کی بجائے سانپ نہیں دے گا اور روٹی کی بجائے پتھر نہیں عطا کرے گا۔وہ اس کے لئے قبولیت کے دروازہ کو کھولے گا اور اس کی دعاؤں کو ضرور سنے گا۔ہم نے بارہا عیسائی بزرگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس امتحان میں پورا اترنے کے لئے مقابلہ میں آئیں لیکن ابھی تک کسی نے آگے آنے کی جرات نہیں کی۔لہذا میں آپ کی خدمت میں اور آپ کی وساطت سے دنیا کے ہر سر بر آوردہ عیسائی بزرگ کی خدمت میں یہ التماس کرتا ہوں کہ ہم سب اپنے اپنے مذہب کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے کسی مشکل امر کے بارہ میں دعا کریں۔مثال کے طور پر ہم ایک خاص تعداد میں ایسے بیمار لیں جن کے زندہ رہنے کی ڈاکٹروں کے نزدیک کوئی امید نہ ہو اور پھر قرعہ کے ذریعہ انہیں آپس میں تقسیم کر لیں۔عیسائی کلیسا اپنے حصہ کے مریضوں کی شفایابی کے لئے دعا کرے اور ہم اپنے حصہ کے مریضوں کی شفایابی کے لئے دعا کریں اور پھر دنیا خدا کے فضل اور رحم کا یہ نشان دیکھے کہ وہ اپنے ان بندوں کی دعاؤں کو جو صداقت پر ہیں کس طرح سنتا ہے۔مسیح علیہ السلام کے مقرر کردہ معیار کے مطابق صاحب ایمان بندوں کی دعائیں خدا کی جناب میں قبول ہوں گی اور ان کے حصہ میں آنے والے مریضوں کی اکثریت شفایاب ہو جائے گی جبکہ دوسری پارٹی کے حصہ میں آنے والے مریضوں کی اکثریت حسب معمول اُس انجام سے ہمکنار ہوگی جس کا اظہار طبی ماہر پہلے کر چکے ہوں گے۔آخر میں جناب والا کی خدمت میں میں یہ التماس کرتا ہوں کہ آپ اس پیشکش پر پوری سنجیدگی