تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 536 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 536

تاریخ احمدیت۔جلد 24 514 سال 1968ء واجب الاحترام لاٹ پادری صاحب! جناب والا کی خدمت میں اس خط کے لکھنے کی غرض آپ تک یہ خوشخبری پہنچانا ہے کہ وہ موعود جس کا عیسائی اور مسلمان عرصہ ہائے دراز سے انتظار کرتے چلے آ رہے ہیں ظاہر ہو گیا ہے اُس نے اس دنیا کو آسمانی نور سے منور کر کے برکات سماوی سے معمور کر دکھایا ہے۔مسیح علیہ السلام کی پیشگوئی کے بموجب آج قوم قوم کے خلاف چڑھائی کر رہی ہے۔دنیا میں قحط ، جنگوں، زلزلوں ، وباؤں اور نا انصافی کا دور دورہ ہے۔حسب پیشگوئی سورج پر تاریکی آچکی اور چاند پر بھی وہ وقت گزرا کہ اس نے روشنی دینی ترک کر دی۔ستارے آسمان سے گرے، آسمانوں کی قو تیں ہلائی گئیں اور اس طرح ابنِ آدم کا نشان آسمان میں ظاہر ہوا۔جیسے بجلی کوند کر پورب سے پچھتم تک دکھائی دیتی ہے بعینہ اسی طرح ابنِ آدم کا ظہور عمل میں آیا۔مسیح برصغیر میں ظاہر ہوا جو فی الواقعہ مشرق میں ہی واقع ہے اور جو زمانہ قدیم سے علوم وفنون کا مرکز ہے۔اور بہت جلد اس کے پیغام کی اشاعت زمین کے انتہائی دور دراز کونوں تک ہوئی یہاں تک کہ اب اس کے پیرو ایشیاء، افریقہ، یورپ، امریکہ وغیرہ دنیا کے تمام براعظموں میں پائے جاتے ہیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام (۱۸۳۵ تا ۱۹۰۸ء) مسیح علیہ السلام کے مثیل کی حیثیت سے برصغیر میں مبعوث ہوئے اسی طرح جس طرح کہ حضرت یحیی علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام کے مثیل کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے۔چنانچہ ہر بات جو مسیح کی آمد ثانی کے متعلق صُحف سابقہ میں لکھی ہوئی تھی پوری ہو چکی ہے حتی کہ فلسطین میں یہودیوں کا پھر آ جمع ہونا بھی منصہ شہود پر آچکا ہے۔میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے ایک ادنی ترین پیر و اور غلام کی حیثیت سے جناب والا کی خدمت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور منجانب اللہ بعثت کو پر کھنے کا ایک معیار پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ جناب والا پوری سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کریں گے اور اس معیار کو آزمانا قبول فرمالیں گے مسیح علیہ السلام نے کہا ہے:۔کوئی اچھا درخت نہیں جو برا پھل لائے اور نہ کوئی برا درخت ہے جو اچھا پھل لائے۔ہر درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے“۔انہوں نے مزید فرمایا ہے:۔