تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 527 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 527

تاریخ احمدیت۔جلد 24 پھر حضور نے فرمایا:۔505 سال 1968ء پس یہ دس پرچے ہیں جن میں پاس ہونے کیلئے انتہائی جدوجہد کی ضرورت ہے۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی یا دوسری یو نیورسٹیوں کی طرح نتیجہ کمزور جوابات کے معیار پر نہیں ہوگا یعنی جو سوالات تم کمزور کرو گے وہ تمہاری ڈویژن کو کمزور نہیں کریں گے بلکہ جو سوالات تم اچھے کرو گے وہ تمہاری ڈویژن کو اونچا کر دیں گے۔پس یہ بڑی نعمت ہے، بڑی عطاء ہے خدا کی۔غرض یہ دس پرچے ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔یہ سلیبس ہے اور اس کیلئے کونسی کتاب پڑھنی ہے؟ قرآن کریم۔یعنی ان دس پر چوں کا نصاب ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے۔اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق ہمیں بتایا ہے کہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ فی یہ ایک کامل نصاب ہے جو تمہارے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔ایک اکمل ہدایت نامہ ہے جو قیامت تک تمہارے کام آنے والا ہے۔اس میں تمام وہ باتیں نصاب کے متعلق پائی جاتی ہیں 66 جن کا ذکر ان دس پر چوں میں کیا گیا ہے۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کا خطبہ صدارت ۳۱ مارچ ۱۹۶۸ء کو تعلیم الاسلام کالج کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات انعقاد پذیر ہوا۔اس مبارک تقریب پر شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ ماہر لسانیات نے ایک پر مغز خطبہ صدارت ارشاد فرمایا جس میں طلبہ کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا کہ ایھا الاحباب :۔اس مبارک تقریب میں طلبہ سے خطاب کرنے کے لئے تعلیم الاسلام کا لح کی منتظمہ نے اس ناچیز کو جو اعزاز بخشا ہے اس کے لئے خاکسار تہ دل سے شکر گزار ہے۔جو منتظمین اپنے عزم و ہمت سے ربوہ کے بیابان میں ایک اعلیٰ درجے کا کالج تعمیر کر سکتے ہیں اور اسے مثالی یق پر چلا سکتے ہیں ان کی کرم فرمائی سے یہ کرامت بھی مستبعد نہیں کہ ایک ذرہ بے مقدار سے یہ خوشگوار کام لے سکیں۔آنانکه خاک را به نظر کیمیا آیا بود که گوشه چشم بما کنند کنند