تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 525 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 525

تاریخ احمدیت۔جلد 24 503 سال 1968ء میں اسی کا اظہار کیا گیا ہے۔لیکن حقیقتا یہ ایک شاعرانہ خیال نہیں ہے بلکہ اسلامی تاریخ کے ہر ورق پر ایک واضح اور ظاہر تنقید ہے۔تاریخ کے ان اوراق پر جوان عمل کے میدانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو مرد اور عورت میں سانجھے ہیں۔آپ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ آپ مردوں سے آگے بڑھ سکتی ہیں۔بہت دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ یو نیورسٹی بھر میں اس کالج کی ایک طالبہ لڑکوں سے آگے نکل گئی اور اس نے اول پوزیشن لی۔پس ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ آپ مردوں سے بھی اور دوسری مد مقابل لڑکیوں سے بھی آگے بڑھیں۔اس جدوجہد کو قائم رکھنا اور اس احساس کو بیدار رکھنا بڑا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے اچھے نتائج آپ کیلئے اور اس ادارہ کیلئے مبارک کرے اور آپ کے بعد آنے والیوں کو بھی توفیق دے کہ وہ اس سے بھی زیادہ اچھے نمبر لیں اور اس ادارہ کو توفیق دے کہ اس سے بھی زیادہ اچھے نتائج نکالے“۔اس تمہید کے بعد حضور نے اس مرکزی ادارہ کی ترقی کیلئے بعض نہایت ضروری ہدایات دیں۔چنانچہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ اکتوبر ۱۹۶۸ء سے پہلے پہلے ڈسپنسری کا انتظام کیا جائے۔ہر سال کالج کی طرف سے علوم قرآن اور علوم کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی مقابلہ کیا کریں۔اول پوزیشن حاصل کرنے والی لڑکی کو ایک سال کی فیس بطور انعام میں دیا کروں گا۔اور سال میں دوبار یوم والدین منایا جائے تا والدین کو یہ احساس ہو کہ تربیت کی ذمہ داری کالج یا جماعت کی ذیلی تنظیموں کی نہیں بلکہ والدین پر عائد ہوتی ہے۔ان اہم ہدایات کے بعد قرآن کریم کی روشنی میں نہایت وجد آفرین پیرا یہ میں اس لطیف مضمون پر روشنی ڈالی کہ قرآن کریم نے بھی ایک کا نووکیشن (یوم موعود ) کا ذکر کیا ہے جبکہ انسانی اعمال کا نتیجہ ظاہر ہو گا۔اُس امتحان کے دس پرچے ہیں جو اس کے مکمل نصاب قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں۔اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے دنیوی امتحانات کی نسبت بہت زیادہ محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔یہاں کا نو و کیشنز تو امتحان کے نتائج کے کئی ماہ بعد انعقاد پذیر ہوتے ہیں لیکن اس یومِ موعود کا نتیجہ اسی وقت نکلے گا جب امتحان ختم ہوگا اور سند اُسی وقت دے دی جائے گی جب نتیجہ کا اعلان ہوگا اور عمل ختم ہوگا۔پھر نوکری تلاش کرنے یا اپنا گھر بسانے کیلئے کوئی پریشانی نہیں ہوگی بلکہ اسی وقت جزا شروع ہو جائے گی۔اسی ضمن میں حضور نے فرمایا:۔