تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 524 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 524

تاریخ احمدیت۔جلد 24 502 سال 1968ء حضرت خلیفة المسیح الثالث کا اہم خطاب جامعہ نصرت ربوہ میں ۲۴ مارچ ۱۹۱۸ ء کو جنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ کے ہال میں جامعہ نصرت کی تقریب تقسیم اسناد کا انعقاد ہوا۔اس موقع پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ایک اہم خطاب فرمایا۔حضور نے اپنے بصیرت افروز خطاب کے آغاز میں جامعہ نصرت کے شاندار نتائج پر اظہارِ خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا:۔دو پہلی بات جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ نتائج کے خوشکن ہونے کے متعلق ہے۔نتائج خدا کے فضل سے بہت اچھے ہیں لیکن نتائج اس سے بھی اچھے ہو سکتے ہیں۔عمل کے مختلف میدان ہیں۔بعض میدان عورتوں کے ہیں اور بعض میدان مردوں کے ہیں اور بعض میدان مردوں اور عورتوں کے سانجھے ہوتے ہیں۔سانجھے میدانوں میں مسلمان عورت نے کبھی مرد کے مقابلہ میں شکست کا اعتراف نہیں کیا۔شکست کھانا یا نہ کھانا اور بات ہے۔لیکن مسلمان عورتوں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔اور ہمیشہ عورتیں ایسے میدانوں میں مردوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی رہی ہیں جیسا کہ ایک شاعرہ (جو عائشہ تیموریہ نام کی عرب میں گذری ہیں) کے اشعار سے ظاہر ہوتا ہے، وہ کہتی ہیں:۔مَا عَاقَنِي خَجَلِى عَنِ الْعُلْيَا وَلَا سَدْلُ الْحِمَارِ بِلِمَّتِي وَنِقَابِي عَنْ طَيِّ مِضْمَارِ الرِّهَانِ إِذَا شُتَكَتْ صَعُبَ الرِّبَاقِ مَطَامِحُ الرُّكَّابِ کہ مجھ میں ایک مسلمان عورت کی حیا بھی موجود ہے اور ایک مسلمان عورت کی طرح ہی پردہ بھی کرتی ہوں لیکن اس نقاب اور اس حیا نے مجھے اس بات سے نہیں روکا کہ میں ان میدانوں میں جو خدا نے عورتوں اور مردوں کے لئے سانجھے بنائے ہیں مردوں کا مقابلہ کروں اور اُن سے اس وقت آگے بڑھوں جب بڑے بڑے سور ما مرد مقابلہ کی سختی کا اظہار کر رہے ہوں۔یہ ایک شاعرانہ خیال ہے کیونکہ شعروں