تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 523 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 523

تاریخ احمدیت۔جلد 24 501 سال 1968ء ہونا چاہیئے۔اگر گولبازار یا غلہ منڈی یا کسی اور بازار میں یہاں لڑائی ہوتی ہے تو سارا ربوہ خاموش کیوں رہتا ہے؟ کیا بھڑوں جیسی غیرت بھی تمہارے اندر نہیں ہے کہ جب بھڑ کے چھتہ کے قریب سونٹی کریں تو ساری بھڑیں اس چھتنہ کی بڑی عریض اور بڑے غصہ کا اظہار کرتی ہیں۔اور ایک آواز پیدا ہوتی ہے ان کی غصہ سے۔تو جتنی غیرت بھڑوں کے چھتہ میں ہے کیا اتنی غیرت بھی اہل ربوہ میں باقی نہیں رہی؟ یہ امن کا ماحول تھا اور امن کا ماحول قائم رکھنا چاہیئے۔میرے پاس رپورٹ کیوں آئے؟ مجھے کسی قسم کا اقدام کرنے کی ضرورت کیوں پیش ہو ؟ اگر سب لوگوں کو یہ پتہ ہو کہ ربوہ ان چیزوں کو برداشت نہیں کرتا۔ربوہ میں برسر عام سگریٹ نہیں پیا جا سکتا۔ربوہ کے بازاروں میں گالی نہیں دی جاسکتی۔ربوہ کے بازاروں میں لڑائی جھگڑا نہیں کیا جاسکتا۔ربوہ کے مکانوں میں نمازوں کے اوقات میں مسجدوں کو معمور کرنے کی بجائے ٹھہر انہیں جاسکتا۔تو پھر ہمارا ماحول جنت کا ماحول ہو جائے۔اور جنت ہی پیدا کرنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔۔پس اے میرے عزیز ربوہ کے مکینو! اپنے سستوں کو چست کرو اور کمزوروں کو مضبوط بناؤ اور غافلوں کو بیدار کرو کیونکہ اس قسم کی کمزوریاں ربوہ میں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔42 مستورات کے لئے خصوصی درس قرآن پیارے امام سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث قرآن مجید کے عاشق صادق تھے۔اور آپ اپنے مبارک دورِ خلافت میں شب و روز کوشاں رہے کہ جماعت کا ہر فرد بالخصوص احمدی مستورات انوار قرآنی سے منور ہوں اور ہر احمدی گھرانہ قرآنی علوم و معارف کا گہوارہ بلکہ درسگاہ بن جائے۔اسی دلی تمنا کی تکمیل کے لئے حضور نے اس سال ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء کی صبح سے حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کے گھر مستورات میں درس قرآن کا آغاز فرمایا۔اس روز حضور نے سورۃ بقرہ کی تیرہویں اور چودھویں آیت کی تفسیر فرمائی۔مورخہ ۳۰ مارچ کی صبح کو بھی حضور نے حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کے گھر مستورات میں قرآن مجید کا درس دیا۔کثیر تعداد میں مستورات حضور کے درس سے مستفیض ہوئیں۔43 44