تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 522
تاریخ احمدیت۔جلد 24 500 سال 1968ء پھر میں ربوہ میں جو ہمارے کارکن ہیں ان کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ ہیں ( بہت سے ہیں جو بڑی دیانتداری کے ساتھ ، بڑے خلوص کے ساتھ دفتر کے جو اوقات ہیں ان سے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں دین کے کاموں کیلئے لیکن کچھ ایسے بھی تو ہیں ) جو پورا وقت نہیں دیتے۔ان کو یہ سوچ کر شرم آنی چاہیئے کہ انہوں نے دوسروں کیلئے ایک نمونہ بننا تھا۔اس مسابقت کے میدان میں لیکن اس سے زیادہ وقت دیتے ہیں کراچی کے بعض احمدی جو دفاتر وغیرہ میں سات آٹھ گھنٹے لگانے کے بعد چھ سات گھنٹے جماعت احمدیہ کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔اور ہمارے بعض کلرک ربوہ میں رہتے ہوئے گزارہ لے کر چھ گھنٹے کام نہیں کرتے۔اور ان کا بھائی کراچی میں جن سے گزارہ لیتا ہے ان کا آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے اور جس رب کریم کے پیار میں وہ اپنی زندگی گزار رہا ہے اس کے لئے اس کے علاوہ چھ سات گھنٹے وہ کام کرتا ہے۔ہمارے اس کلرک سے زیادہ وقت دے رہا ہے۔ایسا ایک کلرک بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اور ایسا کوئی ناظر اور وکیل ہو تو اس کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہیئے جماعت کو۔دنیا کے سامنے بعض دفعہ بڑے فخر سے تم بیان کرتے ہو کہ ہم خدا کی خاطر خدا کے اس شہر میں مقیم ہیں لیکن خدا کے فرشتے جب تمہاری کا رروائی لے کر تمہارے رب کے حضور پہنچتے ہیں تو تمہارے کھاتے میں دین کے لئے خرچ ہونے والا اتنا وقت بھی درج نہیں ہوتا جتنا وقت ایک رضا کار کراچی میں خدا کے دین پر خرچ کر رہا ہے۔ڈوب مرنے کا مقام ہے فخر سے گردن اونچی کرنے کا مقام نہیں! بعض نوجوان ایسے بھی ہیں (چند ایک ہی سہی مگر ہیں تو ) جو قصداً اور عمداً مسجدوں میں نماز کیلئے نہیں آتے۔اگر کوئی سستی کے نتیجہ میں نہیں آتا۔اگر کوئی غفلت کے نتیجہ میں نہیں آتا۔اگر کوئی مسجد میں اس لئے نہیں آتا کہ اس کی ماں بیوقوف ہے نماز کے وقت وہ سویا ہوا تھا اور اس نے اسے جگایا نہیں تو وہ اور بات ہے لیکن وہ نوجوان جو عمد أنماز کو چھوڑتا ہے وہ ربوہ میں کیا کر رہا ہے؟ اور آپ کیوں اس کو برداشت کر رہے ہیں؟ اسی طرح دوسری نیکیاں ہیں ایک نیکی ربوہ سے تعلق رکھنے والی خاص طور پر یہ ہے کہ یہاں کسی قسم کی لڑائی اور جھگڑا نہ ہو اور گالی گلوچ نہیں