تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 518 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 518

تاریخ احمدیت۔جلد 24 496 سال 1968ء اس لحاظ سے جس قدر بڑی نعمت ہو گی اسی قدر اس کا صحیح استعمال ضروری ہے اور اس کا غلط استعمال دکھ اور عذاب کا باعث ہوگا۔اس لئے جس قدر دنیا ترقی کر رہی ہے تو اتنا ہی زیادہ امتحان کا بھی وقت ہے۔ایسے نازک وقت میں ہماری ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے جن اراکین نے اس بات کا بیڑہ اٹھایا ہے کہ وہ اپنے قول وفعل میں مطابقت رکھتے ہیں۔اس لئے جن کے کندھوں پر اس قدر ذمہ داری ہو وہ کیسے چین سے بیٹھ سکتے ہیں۔جہاں تک اسلامی فرائض کا تعلق ہے وہ تو ہر احمدی ضرور بجالاتا ہو گا۔لیکن جہاں ہمارا عمل مشکوک ہو جاتا ہے وہ مقام ہے جہاں ہم اندھا دھند دوسروں کی تقلید کرتے چلے جاتے ہیں۔اور محض اس لئے کرتے ہیں کیونکہ ماحول اور معاشرہ میں وہ چیزیں موجود ہیں۔اور صرف دوسروں کے ڈراور خوف سے ہم ان کو بجالاتے ہیں۔یہ امر خطرناک ہے اور ہمارے اس اقرار کے خلاف ہے کہ ”ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گئے۔اس لئے ہمیں یہ عزم کرنا چاہیئے کہ ہم اپنے ساتھیوں اور ماحول سے ہرگز متاثر نہیں ہوں گے۔اور وہ کام نہیں کریں گے جو تقویٰ کے مطابق نہ ہو۔ہمیں اپنے اندر وہ مومنانہ فرقان پیدا کرنا چاہیئے جو مومنانہ زندگی کا امتیاز ہے اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے خاص طور پر بچنا چاہیئے جو شیطانی ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ (العصر : ۲ تا ۴) اس میں بتایا گیا ہے کہ عمل صالح ہی انسان کو خسر ان سے بچا سکتا ہے۔اس لئے ہمارا ہر عمل صالح ہونا چاہیئے۔اس وقت دو باتوں کی خاص طور پر ضرورت ہے۔اس میں سے ایک علمی ہے اور ایک عملی ہے۔علمی بات تو یہ ہے کہ ہم اس ہدایت پر عمل پیرا ہوں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں مرحمت فرمائی ہے۔فلاح کا راستہ اس ہدایت میں مضمر ہے۔جو قرآن کریم کی صورت میں ہم کو ملی ہے۔ہمیں قرآن کریم پڑھنا چاہیئے اور اس کا ترجمہ سیکھنا چاہیئے اور پڑھتے وقت جس قدر احکام ہیں۔ہم اپنی طبیعت کو ٹو لیں۔کہ کیا ہم ان پر عمل کر رہے ہیں؟ اور جہاں نبی کا حکم ہے کیا ہم اس سے بچتے ہیں؟ انسان اس وقت تک تسابق فی الخیرات اختیار نہیں کر سکتا اور منکر سے اس وقت تک نہیں بچ سکتا جب تک یہ طریق اختیار نہ کیا جائے۔اگر اس طریق کو اختیار کر لیا جائے تو وہ فرقان پیدا ہونا شروع ہو جائے گا جو ضروری اور لازمی ہے۔دوسری بات جو عملی ہے اس میں خاص طور پر وہ امور ہیں جو بظاہر چھوٹے نظر آتے ہیں۔کیونکہ