تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 517 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 517

تاریخ احمدیت۔جلد 24 495 سال 1968ء نام دنیا میں بلند ہو اور ساری دنیا تجھے پہچاننے لگے۔اورسار 39- حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی طرف سے بہائی لیڈرکو دعوت مقابلہ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۸ء کا واقعہ ہے کہ سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے چند دوستوں سے بہائیت کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے زندہ مذہب کی حقیقی روح اور اس کی علامت کا تذکرہ کیا اور فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ علامت اس وقت بھی موجود ہے اگر بہائیوں کے لیڈر جو قرآن مجید کو منسوخ کتاب کہتے ہیں مجھ سے قبولیت دعا کے نشان میں مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں تو وہ میدان میں آئیں۔اللہ تعالیٰ ثابت کر دے گا کہ اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ میری دعا سنے گا اور بہائیوں کی دعا قبول نہ کی جائے گی کیونکہ میں بچے اور زندہ مذہب اسلام کا پیرو ہوں اور بہائی باطل پر ہیں“۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی یہ پُر شوکت دعوت مقابلہ انہی دنوں مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے شائع کر دی تھی مگر آج تک کسی بہائی لیڈرکو یہ جرات نہ ہو سکی کہ یہ قبول کر سکے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا خطاب 40 ۲۰ مارچ ۱۹۶۸ء کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے چوہدری احمد مختار صاحب کی زیر صدارت احمد یہ ہال میں مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے جلسہ عام سے روح پرور خطاب فرمایا۔اس خطاب میں حضرت چوہدری صاحب نے فرمایا:۔اس وقت دنیا ترقی پذیر ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض علوم یعنی فلسفہ، سائنس اور ٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی کر لی ہے۔جو گزشتہ پچاس سال کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ہر قسم کے علم میں اضافہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔اور خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے متعلق یہ اصول بیان فرمایا ہے" لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَبِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابراہیم : ۸ ) یعنی اگر تم میری نعمتوں کی قدر کرو گے تو اور زیادہ دوں گا لیکن اگر تم کفرانِ نعمت کرو گے تو میرا عذاب بھی شدید ہے۔