تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 500
تاریخ احمدیت۔جلد 24 478 سال 1968ء گزشتہ چالیس پچاس سال سے مسلسل ہوتا چلا آ رہا ہے۔آخر میں حضور انور نے احباب سے خطاب فرما کر زریں ارشادات سے نوازا۔حضور نے اپنے خطاب میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جن تین الہامات پر اس وقت مقالے پڑھے گئے ہیں وہ گزشتہ نصف صدی سے نہایت مہتم بالشان طریق پر پورے ہوتے چلے آرہے ہیں۔ان کے اثرات ایک طویل زمانے پر پھیلے ہوئے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان الہامات کو نازل کرنے والا علام الغیوب ہے اس کا علم ماضی، حال اور مستقبل سب پر محیط ہے۔کوئی چیز اس کے علم اور قبضہ قدرت سے باہر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس علام الغیوب ہمہ قدرت زندہ خدا سے ہمارا تعلق قائم ہوا ہے۔ہمیں پوری کوشش اور پوری جد و جہد اور مسلسل مجاہدہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس تعلق کو قائم رکھنا چاہیئے۔اس روح پرور خطاب کے بعد حضور نے دعا کرائی اور یہ با برکت اجلاس اختتام پذیر ہوا۔حمله مورخہ ۲۷ را پریل ۱۹۶۸ء کو مسجد مبارک ربوہ میں بعد از نماز مغرب مجلس ارشاد مرکز یہ کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے فرمائی۔تلاوت و نظم کے بعد محترم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم اے ( کینٹب) پرنسپل تعلیم الاسلام کالج نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام فری میسن مسلط نہیں کئے جائیں گے کہ اس کو ہلاک کریں“ کے موضوع پر محترم میر محمود احمد صاحب ناصر پروفیسر جامعہ احمدیہ نے تحریف بائیل کی تاریخ کے موضوع پر اور محترم عبدالحق صاحب رامہ نے ” ہمسایہ کے حقوق از روئے اسلام کے موضوع پر ٹھوس اور پر مغز مقالے پڑھے۔آخر میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے حاضرین کو زریں ارشادات سے نواز کر انہیں ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا جب قاضی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کے تعلق میں خدائی بشارتوں کا ذکر کر رہے تھے۔میں سوچ رہا تھا کہ کیسی اہم اور عظیم ذمہ داریاں ہیں جو ان بشارتوں کی وجہ سے ہم پر عائد ہوتی ہیں۔اس الہام میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ بعض خفیہ نوعیت کی تنظیمیں خفیہ سازشوں اور خفیہ ہتھیاروں سے اسلام پر حملہ آور ہوں گی لیکن خدا اپنے فضل سے انہیں نا کام کر کے تباہ و برباد کر دے گا۔اس ضمن میں ہم پر یہ اہم اور عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی قربانیوں کو انتہائی معیار تک پہنچائیں اس کے بغیر ہم خدائی افضال کو جذب کرنے کے اہل نہیں بن سکتے۔اسی طرح ابھی تحریف بائیبل کی تاریخ مختصر طور پر بیان کر کے اس ضمن میں بعض