تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 499
تاریخ احمدیت۔جلد 24 477 سال 1968ء میں ثابت کیا کہ دین کے مکمل ہو جانے کے باعث وحی شریعت بند ہو چکی ہے لیکن اتمام نعمت کے نتیجہ میں بغیر شریعت کے وحی جاری ہے۔ان دو تقریروں کے بعد مکرم مولا نا عبد اللطیف صاحب بہاولپوری نے اپنی تقریر میں اس امر کے ثبوت کے طور پر کہ رویا و کشوف نیز الہام اور وحی مطلق کا سلسلہ امت مسلمہ میں شروع سے جاری ہے۔ائمہ سلف اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی کتابوں میں سے ان سے ان کے رویا وکشوف اور الہامات پڑھ کر سنائے۔آخر میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے احباب کو اپنے ارشادات سے نوازا۔حضور نے رویا وکشوف اور الہام ووحی کے مضمون کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ ایک لطیف نکتہ پر اپنے الفاظ میں روشنی ڈالی۔حضور نے اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے مثالیں دے دے کر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مادی دنیا میں انسان کی حاجتوں اور خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی بے شمار اور غیر محدود نعمتیں پیدا کی ہیں اور نہایت ہی پر حکمت سامان فراہم کئے ہیں۔تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس نے رضائے الہی کے جذبہ اور اس سلسلہ میں بشارتوں کے حصول کی خواہش کی تکمیل کا بھی ضرور انتظام فرمایا ہے۔یہ منطقی نتیجہ رویائے صادقہ اور کشوف والہامات کی نعمت کے عطا ہونے اور ہر زمانہ میں اس نعمت کے جاری رہنے پر دال ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے لاکھوں برگزیدہ اور خدارسیدہ انسانوں کا تجربہ اس پر شاہد ہے۔مجلس ارشاد کے اس پروگرام میں پنجاب یونیورسٹی اور انجینئیر نگ یونیورسٹی اور لاہور کے متعدد کالجوں کے قریباً ساٹھ غیر از جماعت طلباء نے بھی شرکت کی۔یہ طلباء ربوہ کی زیارت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی زیر صدارت مجلس ارشاد مرکز یہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہل ربوہ کے علاوہ بعض بیرونی مقامات کے احباب بھی شریک ہوئے۔جلسہ میں علی الترتیب مکرم محمد منور صاحب ،مکرم مولوی فضل الہی صاحب بشیر اور مکرم ڈاکٹر سید سلطان محمود صاحب شاہد ایم۔ایس سی ، پی۔ایچ۔ڈی پروفیسر تعلیم الاسلام کالج نے (۱) پیشگوئی تزلزل در ایوان کسری فتاد(۲) پیشگوئی مصالح العرب مسیر العرب ، اور (۳) پیشگوئی مصلح موعود کے نہایت مہتم بالشان ظہور پر مبسوط مقالے پڑھے۔انہوں نے بعض تاریخی شواہد اور نہایت ایمان افروز واقعات بیان کر کے ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ ہرسہ پیشگوئیاں بھی نہ صرف نہایت شان سے پوری ہوئیں بلکہ ان کے مختلف پہلوؤں کا ظہور