تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 31 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 31

تاریخ احمدیت۔جلد 24 31 سال 1967ء شوری کو خلیفہ وقت بلاتے ہیں اور اس بارہ میں انہیں پورا اختیار ہے کہ جس طریق پر اور جن افراد سے اور جتنی تعداد سے مشورہ لینا چاہیں مشورہ لے سکتے ہیں۔یہ وضاحت کرنا اس لئے ضروری سمجھا گیا تا کہ کسی نئے احمدی کے ذہن میں مغربی طرز فکر کے ماتحت پارلیمنٹوں کے طریق پر نمائندگی کے حق کا سوال پیدا نہ ہو۔“ یہ تمہیدی نوٹ مجلس شوری کے متعلق تھا۔اسلام نے مشورہ کی جو تعلیم دی ہے اس کے متعلق یہ تمہیدی نوٹ نہیں تھا۔اس نوٹ میں سے ایک فقرہ مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب ( سابق امیر جماعت احمدیہ کراچی مراد ہیں ) نے نکال لیا اور قطع نظر اس کے کہ وہ کس سلسلہ میں کہا گیا ہے انہوں نے اس کے اوپر اپنی رائے کا اظہار کیا۔میرے نزدیک اس فقرہ کا وہ مطلب نہیں تھا جو شیخ صاحب کے ذہن میں آیا ہے لیکن بہر حال ان کے ذہن میں ایک چیز آئی اور انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔میں نے اس کی اس وقت اس رنگ میں وضاحت کر دی کہ جہاں تک مشورہ کا سوال ہے جماعت کے ہر فرد کا حق نہیں کہ وہ مشورہ دے بلکہ خلیفہ وقت کا حق ہے کہ جماعت اس کو مشورہ دے۔ان دونوں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ جماعت کے ہر فرد بشر کا یہ حق ہے کہ وہ خلیفہ وقت کو مشورہ دے تو ہزاروں آدمی ایسے ہوں گے جو کہیں گے کہ ہمارا حق ہے ہم اسے چھوڑتے ہیں ، ہم نہیں دیتے مشورہ۔لیکن اگر سمجھا جائے کہ خلیفہ وقت کا حق ہے کہ جس کے ذہن میں کوئی ایسی تجویز آتی ہے جو جماعت کی ترقی کے لئے مفید ہو خلیفہ وقت تک پہنچائے اور جب یہ خلیفہ وقت کا حق ہوا اور کوئی شخص وہ تجویز خلیفہ وقت تک نہیں پہنچاتا تو وہ حق مارنے والا ہو جائے گا۔پہلی صورت میں وہ یہ کہے گا کہ میرا حق ہے میں نہیں دیتا۔دوسری صورت میں وہ خلیفہ وقت کا حق مار رہا ہے۔اس کی اُس کو اجازت نہیں مل سکتی۔لیکن جہاں تک عام مشورہ کا تعلق ہے۔میں ان سینکڑوں افراد جماعت کا اور اپنے بھائیوں کا بے حد ممنون ہوں کہ وہ مجھے مشورہ دیتے رہتے ہیں اور بڑے اچھے مشورے دیتے ہیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض بڑی اچھی باتیں ان کے ذہن میں آتی ہیں لیکن موجودہ حالات میں اور موجودہ وسائل جو ہمیں حاصل ہیں ان کی وجہ