تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 30
تاریخ احمدیت۔جلد 24 30 سال 1967ء خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کی دوسری مجلس مشاورت خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کی دوسری مجلس مشاورت ۸،۷، ۹ مارچ کو ایوان محمود کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی۔جس میں ایجنڈا کے مطابق نظارت اصلاح وارشاد ، نظارت تعلیم ، نظارت بیت المال، وکالت تعلیم تحریک جدید کی ضروری تجاویز کے علاوہ صدرانجمن احمد یہ تحریک جدید اور وقف جدید کے بجٹ زیر غور آئے جن کی مجموعی رقم گذشتہ سال سے ۱۸ا کھ ۸۳ ہزار ۸ سو۹۴ روپے زیادہ تھی۔اس شوری کی سفارشات کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی منظوری کے بعد مولوی عبدالرحمن صاحب انور سیکرٹری مجلس مشاورت کی طرف سے ۱۰ جون ۱۹۶۷ء کو شائع کر کے سب جماعتوں کو بھجوا دیا گیا اور اس کی تفصیلی رپورٹ فروری ۱۹۶۸ء میں منظر عام پر آئی۔جو ۲۶۹ صفحات پر مشتمل ہے۔اس شوریٰ میں ۶۸۹ ممبران شریک ہوئے۔حضور کی زیر ہدایت باری باری شیخ بشیر احمد صاحب سابق حج مغربی پاکستان ہائیکورٹ لاہور، مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ، شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ اور چوہدری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ کو حضور کی معاونت کا خصوصی شرف حاصل ہوا۔سید نا حضرت خلیفتہ امیج الثالث مشاورت کے تینوں دن رونق افروز رہے اور اپنی بیش قیمت ہدایات اور ارشادات سے نوازا۔حضور نے اپنے اختتامی خطاب میں مشورہ کے بابرکت اسلامی نظام پر نہایت بصیرت افروز روشنی ڈالتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں وضاحت فرمائی کہ جماعت کے ہر فرد کا حق نہیں کہ وہ مشورہ دے بلکہ خلیفہ وقت کا حق ہے کہ جماعت اُس کو مشورہ دے۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔مکرم ابوالعطاء صاحب نے اپنی رپورٹ کی ابتدا میں ایک تمہیدی نوٹ دیا تھا جس کے الفاظ یہ تھے کہ: سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی ہے کہ تمام جماعتوں اور افراد پر اچھی طرح واضح رہے کہ مشورہ لینے کا حق نبی یا امام وقت کو دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شَاوِرُهُمُ فِي الْأَمْرِ فرمایا ہے۔امام جس طریق پر اور جن افراد سے مشورہ لینا پسند کرے اس کا اُسے از روئے شریعت اختیار ہے۔جماعتوں اور افراد کا یہ حق نہیں کہ کسی خاص طریق پر مشورہ دینے کا مطالبہ کریں۔مجلس