تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 32
تاریخ احمدیت۔جلد 24 32 سال 1967ء سے ہم ان کے مشورہ کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے۔لیکن وہ باتیں بہر حال بڑی اچھی ہوتی ہیں اور کسی وقت ہمارے کام آسکتی ہیں۔پھر اگر ہر شخص یہ سمجھے کہ خلیفہ وقت کا یہ حق ہے کہ اس کو مشورہ دیا جائے اور مشورہ سے اس کی امداد کی جائے تو وہ جماعتی کاموں کے متعلق سوچتا ہے اور بڑے گہرے سوچنے والے ہمارے اندر موجود ہیں اور وہ سوچتے رہتے ہیں اور جب کوئی بات اُن کے ذہن میں آجاتی ہے تو اس کی تفصیل مجھے لکھ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام ختم ہو گیا۔جہاں تک مجلس شوری کا سوال ہے وہی فقرہ درست ہے جو مکرم ابوالعطاء صاحب نے اپنے تمہیدی نوٹ میں لکھا ہے۔کیونکہ یہ فیصلہ کر نا کہ کسی مجلس کو مشورہ کے لئے قائم کیا جائے یا نہ کیا جائے یہ جماعت کا حق نہیں ہے بلکہ خلیفہ وقت کا حق ہے۔اگر آپ اسے جماعت کا حق فرض کر لیں تو ساتھ ہی ہمیں اس وقت یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت خلیفہ اول نے جماعت کو یہ حق نہیں دیا۔کیونکہ انہوں نے اس قسم کی مجلس شوریٰ بلائی ہی نہیں اور اس طرح آپ نے جماعت کا ایک حق مارلیا (نعوذ باللہ ) جو غلط بات ہے اور پھر اس کا نتیجہ فورا یہ نکلتا ہے کہ حضرت خلیفہ ثانی ۱۴ء میں مسند خلافت پر بیٹھے اور پہلی مجلس شوریٰ ۲۲ء میں منعقد ہوئی۔اگر مجلس شوری کا قیام جماعت کا حق تسلیم کیا جائے تو ۱۴ء سے ۲۲ء تک آپ نے قوم کواس کا حق نہیں دیا اور یہ بالکل غلط بات ہے ، ان کا حق تھا ہی نہیں۔اس لئے حق دینے کا یا نہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غرض جہاں تک مجلس شوریٰ کا سوال ہے اسے کس شکل میں بُلا یا جائے ،اس کی نمائندگی کا کیا طریق ہو۔انتخاب کس اصول پر ہو وغیرہ۔یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کا فیصلہ کرنا خلیفہ وقت کا کام ہے اور اس کے متعلق خلیفہ وقت مشورہ لیتا ہے۔وہ مشورہ کے بعد اکثریت کے حق میں فیصلہ کر رہا ہو یا اکثریت کے خلاف فیصلہ کر رہا ہو۔یہ علیحدہ بات ہے لیکن بہر حال وہ مشورہ لیتا ہے اور کام کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ کے ایک طریق مشورہ کے متعلق عزیز محترم سید محمود احمد صاحب