تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 393
تاریخ احمدیت۔جلد 24 393 سال 1967ء موجب ہوا۔اس مجلس میں حسب ذیل اصحاب کی تقاریر ہوئیں۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب ، مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری ناظر اصلاح وارشاد، مولوی نور محمد نسیم سیفی صاحب، مولوی قمر الدین صاحب فاضل،صوفی غلام محمد صاحب، مولانا ظہور حسین صاحب مبلغ بخارا، میاں عبدالحق صاحب رامہ ناظر بیت المال، مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب، ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ، حافظ عبدالسلام صاحب وکیل المال تحریک جدید، پروفیسر سعود احمد خان صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب،مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل،صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب، مولانا شیخ مبارک احمد صاحب، مولانا نذیر احمد صاحب مبشر ، چوہدری صلاح الدین صاحب مشیر قانونی، چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب ناظر زراعت، گیانی واحد حسین صاحب، میاں محمد ابراہیم صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ،مولوی عبداللطیف صاحب بہاولپوری ، سید عبدالحئی صاحب، پروفیسر نصیر احمد خان صاحب، مولوی غلام باری صاحب سیف، صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب، ملک حبیب الرحمن صاحب ریٹائر ڈ ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز سرگودھا ڈویژن۔سید محی الدین صاحب ایڈووکیٹ رانچی کی باعزت برینت 36۔رانچی ہندوستان کے صوبہ بہار کا ایک صحت افزاء مقام ہے۔جہاں ۱۹۶۷ء کے وسط ستمبر میں ہولناک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ، مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی جان و مال اور عزت و آبرو اور اموال و املاک نہایت بے دردی سے تباہ کر دیئے گئے۔اس موقعے پر صوبہ بہار کے ممتاز احمدی ایڈووکیٹ سید محی الدین صاحب، جو ہمیشہ ہی ہر تکلیف ، پریشانی اور مشکل کے وقت مسلمانوں کی مدد کے لئے سرگرم عمل رہتے تھے اور اسلامی خدمات بجالانے والے مسلمانوں میں ہمیشہ صف اول میں رہتے تھے، اس موقعے پر بھی میدانِ عمل میں آگئے اور اپنے اخبار THE SENTINEL میں ان فسادات کے پس منظر کو مفصل طور پر پیش کیا۔اصل حقائق کے منظر عام پر آجانے کی وجہ سے مقامی حکام نے حق گوئی کو پسند کرنے کی بجائے انہیں گرفتار کر لیا۔ان کی گرفتاری کی اطلاع جب مرکز سلسلہ احمدیہ قادیان پہنچی تو مرکز کی طرف سے پرائم منسٹرو ہوم منسٹر گورنمنٹ آف انڈیا اور چیف منسٹرو ہوم منسٹر، آئی جی پولیس صوبہ بہار کو ان کی رہائی کے سلسلہ میں تاریں دی گئیں۔