تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 392
تاریخ احمدیت۔جلد 24 392 سال 1967ء ایک سرکاری محکمے کا عدم تعاون 66 جناب عارف زمان ناظر امور خارجہ نے اپنی سالانہ رپورٹ ۶۷۔۱۹۶۶ء میں یہ انکشاف کیا کہ:۔ربوہ کے ڈاکخانہ کے عدم تعاون کے قصے حسب دستور جاری ہیں۔باوجود اس کے کہ خاکسار P۔M۔G کے دفتر میں ان کے متعلقہ ڈائریکٹر سے ملتا رہا ہے اور وہ ہر معاملہ میں زبانی تعاون کرتے رہے ہیں۔اور بعض معاملات میں عملی طور پر تعاون کرتے دکھائی دیئے ہیں۔گو نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔اس سلسلے میں ایک جدیدترین واقعہ خالی از دیچیپسی نہ ہوگا۔مکرم پوسٹ ماسٹر صاحب ربوہ ے تحریر فرمایا کہ اسے تارجن پر پتے خلیفہ مسیح ربوہ ہودہ تار پوسٹ ماسٹر DELIVER نہیں کریں گے۔جب تک کہ یہ پتہ خلیفہ اسیح “ رجسٹرڈ نہ کرایا جائے۔چونکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت سے تعاون کریں۔اس لئے یہ نام رجسٹر کروانے کے لئے درخواست دے دی۔اس پر مکرم پوسٹ ماسٹر صاحب نے تحریر فرمایا کہ یہ نام رجسٹر ڈ نہیں ہوسکتا۔اس لئے کہ اس میں دس سے زیادہ حروف ہیں۔اس پر پوسٹ ماسٹر صاحب نے مزید ہدایات جاری کیں کہ بجائے خلیفہ اسیح “ کے کوئی اور مختلف لفظ رجسٹرڈ کروالیا جائے۔جو دس حروف سے کم ہو۔اس پر خاکسار DEPUTY P۔M۔G متعلقہ سے ملا اور ان کو تحریر درخواست بھی دی کہ ایسا کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے کہ خلیفہ مسیح “ کے علاوہ کوئی اور نام دیا جائے۔انہوں نے خاکسار کے دلائل تعلیم کئے۔معاملہ کی تفتیش کے لئے احکام جاری کئے اور خاکسار کو یقین دلایا کہ خلیفہ اسیح “ بے شک لکھا جائے۔آئندہ ڈاکخانہ والوں کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔چند ماہ ڈاکخانہ والوں نے کوئی اعتراض نہ کیا مگر اب پھر اعتراض کرنا شروع کر دیا ہے۔اور آئے دن نوٹس جاری کرتے رہتے ہیں کہ خلیفہ سیح کے پتہ جو تار یا خط آئیں گے وہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو DELIVER نہیں کئے 66 34 66 جائیں گے۔“ ربوہ میں مجلس تلقین عمل حضرت خلیفة المسیح الثالث کی منظوری سے حضور کے سفر یورپ کے دوران مسجد مبارک ربوہ میں بعد نماز مغرب ایک مجلس تلقین عمل کا قیام عمل میں آیا۔جس کے زیر انتظام روزانہ پندرہ منٹ کی ایک تربیتی تقریر ہوا کرتی تھی۔اس پروگرام کا آغاز ے جولائی سے ہوا اور نہایت دلچسپی اور اضافہ علم کا