تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 333 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 333

تاریخ احمدیت۔جلد 24 333 سال 1967ء موضع کچھ کے مولوی نے کہا حضرت سے مجھے کتابیں لے دو حضرت کی خدمت میں لکھا گیا۔آپ نے براہین احمدیہ ، تریاق القلوب اور جو کتا بیں رقعہ میں لکھی تھیں بھیج دیں۔۔۔۔جلسہ پر میں نے حضرت اقدس کو تقریر کرتے دیکھا ہے۔کوئی وقت متعین نہ ہوتا تھا۔جب ارادہ فرماتے تو اعلان کیا جاتا میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں جلسہ ہوا تو آپ لکڑی کی سیڑھی اتر کر آئے۔جود دالان کے اندر لگی ہوئی تھی۔اور زندگی وقف کرنے کا ارشاد کیا تھا۔مسجد اقصیٰ میں ایک جلسہ میں آپ کے لئے کرسی رکھی گئی اور بیٹھ کر تقریر کی۔تقریر میں فرمایا ہر ایک آدمی جو یہاں ہے میرانشان ہے۔حضرت اقدس کی تقریر میں تسلسل ہوتا۔شروع میں کچھ دھیمی آواز ہوتی پھر بلند ہو جاتی۔مقرر اپنی تقریر میں بعض فقروں پر زور دیا کرتے ہیں۔آپ کی یہ عادت نہ تھی۔قرآن مجید کی آیت بھی سادہ طرز سے پڑھتے نہ ہاتھ سے اور نہ انگلی سے اشارہ کرتے لاٹھی ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوتے کبھی دونوں ہاتھ اس پر رکھ لیتے آپ کی تقریر نہایت دلکش ہوتی بالکل اطمینان سے آپ تقریر فرماتے گویا قدرتی مشن ہے جس کو قدرت کے ہاتھ نے کام لینے کے لئے کھڑا کیا ہے۔79 ۹ امئی کو خاکسار نے استاد مغفور ( حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی) سے اجازت لی اور اپنے وطن کو چلا گیا۔۲۷ مئی کو سنا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیشانی مبارک کو فرشتہ اجل نے بوسہ دیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔پھر استاد مغفور ( حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی ) خلیفہ ہوئے۔ان کا خط پہنچا کہ جلد قادیان آجائیں۔خاکسار قادیان میں آگیا۔حضرت مولوی صاحب نے سالہا سال تک مدرسہ احمدیہ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور نصرت گرلز ہائی سکول میں فرائض تدریس سرانجام دیئے۔عربی لغت پر آپ کو بہت عبور حاصل تھا۔عربی اردو لغت و سھیل العربیہ اور مشہور قرآنی لغت مفردات راغب کا اُردو ترجمہ آپ کی علمی یادگار ہے۔اوّل الذکر قادیان اور ثانی الذکر پشاور سے شائع ہوئی۔آپ نمود و نمائش سے بالا جید عالم اور بہت کم گو ، سادہ منش ، درویش صفت اور گوشہ نشین بزرگ تھے۔اولاد محمد مسعود احمد صاحب، میجر محمد عاصم صاحب ، خالدہ خانم صاحبہ اہلیہ احمد حسن صاحب سابق رجسٹرار پشاور یونیورسٹی ، اریبہ خانم صاحبہ ایم۔اے بیچر ار جامعہ نصرت ربوہ 80