تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 332
تاریخ احمدیت۔جلد 24 332 سال 1967ء آئے۔سکھ شور کر رہا تھا کہ مجھے یونہی گرفتار کر لیا گیا۔میں مویشی لے کر جارہا تھا۔حضرت اقدس نے کہلا بھیجا اس کی مشکیں ڈھیلی کر دو تکلیف نہ ہو۔چور کے بدن پر تیل ملا ہوا تھا۔اس کو کابل کے پٹھان نے پکڑا تھا۔بازار کے ہند و صبح اس کو دیکھنے آئے۔اور کہتے کہ یہ بھی واقعی جوان ہے۔جس نے بشن سنگھ کو پکڑا۔یہ سکھ تھانے میں جانے سے سزا یاب ہو گیا۔گورداسپور میں مقدمہ پر کتابوں کی ضرورت تھی۔قادیان سے راتوں رات خاکسار وہاں پہنچا حضرت اقدس نے مطبع والوں کو تکان دور کرنے کے لئے چائے پلانے کا حکم دیا۔لیکن تکان کے سبب خاکسار سو گیا۔۔۔۔دوران مقدمہ حضور لاہور گئے۔وہاں آپ بابو چراغ دین ، معراج دین صاحب کے مکانوں میں نزول فرما ہوئے۔ملاں لوگ اپنے چیلوں کو بھیجتے وہ سڑک پر کھڑے ہوکر گالیاں دیتے۔مرزا توں ایسا ویسا۔پولیس ان لوگوں کو ہٹا دیتی۔جلسہ گاہ کے کام کرنے والوں کے لئے مغرب کے بعد خاکسار اور ایک اور شخص یکہ پر روٹیاں لاد کر لے گئے۔رات کو خاکسار وہاں ہی رہا۔صبح کے وقت مولوی عبدالکریم صاحب لیکچر پڑھنے سے فارغ ہوئے تو حضرت اقدس تقریر کے لئے کھڑے ہوئے۔لوگوں نے شور کرنا شروع کیا۔ایک آریہ جو میرے پاس سٹیج پر تھا۔کہنے لگا مسلمان بھائیوں آپ نہیں سنتے تو ہمیں سنے دو۔لیکن لوگ خاموش نہ ہوئے۔پھر مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا حضور میں چپ کروا دیتا ہوں پھر مولوی صاحب نے خوشخوانی سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔لوگ خاموش ہو گئے۔جب قرآن پڑھ چکے تو حضرت اقدس کھڑے ہوئے اور تقریر میں فرمایا کہ مذہب کی وجہ سے طبائع میں غیر معمولی جوش پیدا ہو جاتا ہے۔آپ لوگوں کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے کہ مضمون کو خاموشی سے سنا۔جب ہم جلسہ گاہ سے نکلے تو جگہ جگہ ملاں کی ٹولیاں گالیاں دے رہی تھیں۔بعض آدمیوں کی جھولیاں اینٹوں کے ٹکڑوں سے پر تھیں کہ حضرت اقدس پر پھینکیں گے۔جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت تشریف لے گئے ہیں تو اینٹیں گرا دیں۔دہلی دروازہ سے باہر ایک شیشم کا درخت تھا۔اس کے نیچے بھیڑ تھی۔لیکن مقر ر نظر نہ آتا۔جب درخت کے اوپر نظر کی تو ایک مولوی درخت پر چڑھ کر گالیاں دے رہا تھا۔اور استہزاء کرتا۔۔۔۔حضرت اقدس نہایت فیاض صاحب کرم تھے۔ایک بار ریاست پو نچھ کا نو جوان مسافر صالح محمد نام ہیضہ میں گرفتار ہوا۔آپ نے اس کے لئے اپنے کھانے کی کستوری کی بوتل بھیج دی جس میں تولہ سے زیادہ کستوری تھی۔وفات کے بعد صالح محمد کو بہشتی مقبرہ میں دفن کروایا تھا۔