تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 331 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 331

تاریخ احمدیت۔جلد 24 331 سال 1967ء نے کہا حضور میرے مرید مجھ سے برگشتہ ہو جائیں گے۔اگر ان کو میرا احمدی ہونا ظاہر ہوا۔آپ مجھے مخفی رکھنے کی اجازت دیں۔میں آپ کی تعلیم کی اشاعت کروں گا۔آپ نے اس کو اجازت دے دی۔شمال مغربی کشمیر مظفر آباد کا پیر ۱۹۰۶ ء کے قریب آیا۔بیعت کی۔اور کسی کی طرف سے اعتراض کیا کہ جماعت کی اخلاقی حالت پر ایسے ایسے اعتراض ہوتے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا اس شخص کو تو بہ کرنی چاہیے۔خدا کے غضب سے ڈرے میری جماعت ایک پاکیزہ جماعت ہے اس میں بڑی تبدیلی پاتا ہوں۔یہ پیر وطن میں گیا اور اپنے آپ کو احمدی ظاہر نہیں کیا۔موضع چھور پرگنہ ہزارہ کا پیر ۱۹۰۵ء میں باغ میں آیا۔اور کچھ دن رہ کر بیعت کر کے چلا گیا۔لیکن وہاں اس نے اخفاء رکھا۔۱۹۰۸ء میں جب کہ فنانشل کمشنر آیا تھا۔رحمت اللہ خان بمعہ رئیس ڈلہوزی کئی دن تک یہاں رہے۔مسجد مبارک میں باجماعت نماز ادا کرتا رہا اور دعا کے لئے عرض کرتا رہا۔لیکن وطن میں جا کر خاموش رہا۔مولوی فضل دین بوڑھا شخص اضلاع گجرات کا حضرت اقدس کا وعظ میں بُرا کہتا۔وہ سالم یکہ لیکر اپنے مطب میں آیا۔استاد صاحب اس کو دیکھ کر حیران ہوئے۔اس نے کہا کل حمایت اسلام میں واعظ ہے میں نے چاہا کہ حضرت کو مل آؤں۔استاد مغفور نے فرمایا ظہر کی نماز کو تشریف لائیں گے۔جب حضور تشریف لائے۔مولوی صاحب کو لیکر ہم مسجد گئے۔حضرت اقدس اس کو دیکھ کر مسکرائے اور مزاج پرسی کی مولوی نے پنجابی میں کہا کہ کل میرا وعظ ہے۔آج میں نے کہا کہ حضرتاں دی زیارت کر آواں۔اس مولوی نے دو روپے نذرانہ دئے اور نماز باجماعت پڑھ کر واپس چلا گیا۔اسی طرح کئی اور لوگ تھے جو اپنے لوگوں میں جا کر اظہار نہ کرتے تھے۔جلسہ کے ایام میں آپ پر وحی نازل ہوئی۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ آپ نے فرمایا شاید مہمانوں کو تکلیف ہوئی ہوگی۔۱۹۰۵ء میں آپ باغ میں تھے۔اردگرد کے دیہات میں چور تھے۔خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہوئی۔”امن است در مقام محبت سرائے ما‘ بشن سنگھ ایک تن آور قوی بدن مشہور چور آیا۔خدا کے فرشتوں نے اس کو ایسا حیران کیا کہ وہ پیاز اکھیڑ نے لگا پہرہ داروں سے ڈر کر بھاگا اور پکڑا گیا۔موجودہ پختہ مکان کے مغربی طرف لا کر رسی سے باندھا گیا۔ہم نے جا کر دیکھا استاد صاحب بھی