تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 330 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 330

تاریخ احمدیت۔جلد 24 330 سال 1967ء دھونا پڑے گا۔گاؤں کے لوگ بھی تیرے دشمن ہو جائیں گے۔یہ عقیدہ دل میں رکھو۔طالبعلم نے کہا میں پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔مولوی صاحب گھر چلے گئے۔گاؤں کے سنجیدہ لوگ دوسرے دیہات سے مولویوں کو مباحثہ کے لئے منگواتے۔یاغستانی کہتا میں طالبعلم ہوں۔یکصد روپے اس کتاب پر میں نے خرچ کئے ہیں۔اگر اس کی ایک دلیل باطل کر دکھاؤ گے تو میں اس کو تمہارے سامنے جلا دونگا۔ملا لوگ عاجز رہتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گاؤں کے کچھ اور لوگ بھی احمدی ہو گئے۔خاکسار کی عمر چھوٹی تھی لیکن احمدیوں کے آگے مولوی مغلوب ہوتے دیکھ کر خاکسار احمدیوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا اور احمدی کہلاتا۔جب قادیان کے راجہ عطا محمد خان یاڑی پورہ کشمیر کا باشندہ قادیان سے دانہ پہنچا اس کے کچھ ماہ کے بعد خاکسار نے بیعت کا کارڈلکھا جس کا جواب حضرت اقدس کی طرف سے پہنچا۔غالبا یہ واقعہ ۱۹۰۰ء کے قریب کا ہے۔اس کے بعد خاکسار کو قادیان آنے کا شوق ہوا۔خدائے برتر نے شروع اپریل ۱۹۰۳ء میں ۱۴ ۱۵ سال کی عمر میں حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ وعلی مطالعہ خیر الامام الصلوۃ والسلام کے دیدار مسرت آثار سے نوازا۔۔۔۔۔میرا بڑا بھائی گل حسن خان جس نے احمدی ہونے پر مجھے اتنا مارا تھا کہ میرے کپڑے لہولہان ہو گئے تھے۔احمدی ہو کر قادیان آیا اور مجھے ایک رومال خرید کر دیا کہ حضرت اقدس سے بدلوا دو۔میں نے وہ رومال حضور کو دیا اور ان کے سفید چھینٹ کا میلا رو مال لیکر بھائی کو دیا۔حضرت اقدس کا پس خوردہ خشکہ چاول روغن زرد سے چکنا کیا ہوا۔اور چپڑی ہوئی چپاتی کو خاکسار نے مسجد مبارک کی چھت پر کھایا تھا۔صوفی غلام محمد صاحب مبلغ ماریشس علی گڑھ میں پڑھتے تھے۔ان کا خرچ کوئی اور برداشت کرتا۔حضرت اقدس نے عائشہ بیگم بنت شادی خان سے ان کے عقد نکاح کی تجویز فرمائی اور میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کی چھت پر لوگ جمع ہوئے۔آپ نے ۵۰۰ روپے مہر تجویز کر کے فرمایا۔اگر چہ اس وقت ان کی طاقت نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ ان کو اس قابل کر دے گا کہ یہ ۵۰۰ دے سکیں گے۔علماء صوفیاء حضرت اقدس کی روحانی طاقت کو مانتے ہوئے مخالفت کرتے تھے کہ ان کی عزت اور وقار کو صدمہ نہ پہنچے۔کئی آدمی میں نے دیکھے کہ وہ بیعت میں بھی شریک ہوئے لیکن اپنی بیعت کو انہوں نے قوم پر ظاہر ہونے نہیں دیا۔ایک بار گورداسپور کے ضلع کا ایک پیر آیا۔نماز ظہر پڑھ کر عرض کی میں الگ ملنا چاہتا ہوں۔حضور اس کو مسجد مبارک کی شمالی دیوار کی کھڑکی کے اندر لے گئے۔وہاں جا کر اس