تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 297
تاریخ احمدیت۔جلد 24 297 سال 1967ء اپنے نام کا اشتہار نہیں دیا۔چودہ سال آپ A۔G کے دفتر میں ملازم بھی رہے۔آپ نے ۱۹۳۱ء میں خود پینشن لی۔لاہور کے مختلف طبی اداروں کی قابل قدر طبی خدمت سرانجام دی۔آپ مریضوں کا علاج نہایت درجہ محبت درد اور اخلاص سے کیا کرتے تھے۔طبیعت میں لالچ اور طمع ہر گز نہ تھا۔امیر غریب اپنوں بیگانوں کا علاج ایک ہی جذبہ سے کیا کرتے تھے۔کشتہ جات اور جڑی بوٹیوں سے بڑی واقفیت تھی۔نسخہ لکھنے سے پہلے ھو الشافی اللہ لکھنا عادت میں داخل تھا۔نسخہ جات مناسب حال لکھا کرتے تھے۔اور مریض کی مالی استطاعت کو کبھی نظر انداز نہ کیا کرتے تھے۔آپ کو ایک مرض کے پچاسوں نسخے یاد تھے۔ضرورت کے مطابق ایلو پیتھی اور ہومیو پیتھی کی طرف بھی رجوع کیا کرتے تھے۔بدن انسانی کے جملہ امراض کے علاج سے واقف تھے۔آپ نے سرجری بھی اپنے شوق سے سیکھی چنانچہ اس میں بھی آپ کو خاصی مہارت حاصل تھی۔آپ نے بارہا معمولی آپریشن کامیابی سے کئے۔مرض کی شدت کے پیش نظر آپ کی عادت میں داخل تھا کہ نسخے بار بار تبدیل کیا کرتے تھے۔تا کہ مریض جلد از جلد صحت یاب ہو جائے۔مریض کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے۔آپ گھر میں ہمیشہ ضروری ادویات یونانی و انگریزی اور اوزار جراحی موجود رکھتے تھے۔عمر بھر اچھی اچھی کتابیں خریدنے کا شوق رہا اور اپنے تجربہ کو ہمیشہ بڑھاتے رہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں شفا رکھی ہوئی تھی اور ہزاروں مریضوں نے آپ کے ہاتھوں شفاء پائی۔ان کے طریق علاج کو یونانی اور ایلو پیتھی میں سراہا جاتا تھا۔مریض خواہ عورت ہو یا مرد۔بچہ ہو یا بوڑھا سب سے نہایت اخلاق کے ساتھ پیش آتے۔جو مریض ایک دفعہ آجاتا ہمیشہ کے لئے گرویدہ ہوجاتا اور ضرورت پڑنے پر ہمیشہ آپ کی خدمات حاصل کرتا۔آپ مریضوں کے علاج کے لئے ہر وقت تیار رہتے رات اور دن کے کسی حصہ میں جب کبھی کسی کو ضرورت پڑی آپ نے کبھی جانے سے انکار نہیں کیا۔آپ نے کبھی بھی صحیح نسخہ بتانے میں بخل سے کام نہیں لیا۔کتب بینی کا مشغلہ تمام عمر رہا۔مضامین لکھنے کا کام بڑی عرق ریزی، اخلاص ، محنت اور درد سے کیا اور سب سے بڑھ کر مخلوق خدا کی ہمدردی کا جذبہ پس پردہ کام کر رہا تھا۔اس خیال سے آپ کو مسرت ہوتی تھی کہ میرے طبی مضامین سے دنیا ہمیشہ فائدہ اٹھاتی رہیگی اور یہ میرا صدقہ جاریہ ہے جو میری وفات کے بعد میرے لئے مغفرت کا باعث بنتا رہے گا۔آپ نے ساری عمر روپیہ جمع نہیں کیا اور نہ ہی زیور اور جائیداد بنانے کا شوق کیا۔آپ ایک متوکل علی اللہ آدمی تھے۔کفایت شعاری سے جو روپیہ بچ گیا فوراً کوئی نہ کوئی کتاب یا اوزار یا ادویات خرید لیتے اور سب