تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 298 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 298

تاریخ احمدیت۔جلد 24 298 سال 1967ء سامان ہر وقت موجود رکھتے تا کہ ضرورت کے وقت کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں کہ خود مطالبہ کر کے کسی سے فیس لی ہو۔نادار اور مفلس مریضوں کا علاج مفت کیا کرتے تھے۔بلکہ اپنی جیب سے امداد بھی کیا کرتے تھے۔علاج زیادہ تر ادویات کی بجائے پھلوں اور پر ہیزی غذا سے کیا کرتے تھے۔ڈاکٹری سرجری کے بہت قائل تھے اور کئی امراض میں علاج کی بجائے فوری آپریشن کرانے کا مشورہ دیتے۔حکیم حاذق کی ایڈیٹری آپ نے چھوٹی عمر میں کی اور بعد میں آفتاب حکمت آپ کی زیر ادارت شائع ہوتا رہا۔آپ کی ایک تصنیف ”بیاض حمید“ کے نام سے مشہور ہے۔“ نیز عبدالقدیر ہارون صاحب مزید تحریر فرماتے ہیں:۔لباس، خوراک اور رہائش میں سادہ تھے۔شاعری میں بھی آپ کو کافی دلچسپی تھی۔شیخ سعدی، عمر خیام، حافظ شیرازی، غالب اور اقبال کے کلام آپ کے پاس موجود تھے۔اردو، فارسی، انگریزی اور پنجابی کے سینکڑوں کی تعداد میں اشعار آپ کو زبانی یاد تھے۔بعض آدمی اس وجہ سے مخالفت رکھتے تھے کہ یہ احمدیت کی تبلیغ بھی کرتا ہے۔اور عوام میں مقبول بھی بہت ہے۔لیکن ساری عمر کسی سے عداوت ، دشمنی اور بغض نہیں رکھا۔آپ کی صحبت لائق ، قابل اور صالحین کے ساتھ تھی۔آپ کی واقفیت کا حلقہ بہت وسیع تھا۔آپ کے عزیز واقارب کے علاوہ کافی دوست احباب ان کی قابلیت ، خلوص اور محبت کی وجہ سے مداح تھے۔یہی وجہ کہ جس نسخے پر ذاتی “ لکھ دیتے دوائی فروش بغیر قیمت وصول کئے دوائی دے دیتے تھے۔ایک دفعہ ایک بد باطن نے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے ایک مشہور و معروف نسخہ پر زہر اگلا جس کا جواب کئی اقساط میں لاہور کے طبی رسالہ میں والد صاحب دیتے رہے۔جب جواب سے عاجز آگیا تو اس نے والد صاحب کے نام گھر کے پتہ پر گمنام خط لکھنے شروع کر دیئے۔جن میں گالیاں اور قتل کی دھمکیاں ہوتی تھیں۔ہم بہت پریشان ہوئے اور والد صاحب کو اس بات پر آمادہ کرتے رہے۔کہ آپ احتیاط سے کام لیں۔اور کچھ عرصہ گھر سے باہر نہ جائیں۔لیکن یہ بے کار ثابت ہوا۔فرماتے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔کہ میں گھر سے باہر نہ جاؤں اور ڈر کر گھر بیٹھ جاؤں۔اگر میرے قتل ہونے کا وقت آ گیا ہے۔تو کوئی مجھے بچا نہیں سکتا۔مجھ سے ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ایک طلاء بیچنے والا اور فن طبّ سے نابلد شخص حضرت حاجی الحرمین شریفین حکیم مولوی نورالدین خلیفہ المسیح الاول کے ایک اعجازی نسخہ پر اعتراض کرے اور میں جواب نہ دوں۔&