تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 293
تاریخ احمدیت۔جلد 24 293 سال 1967ء سے باہر باندھ دیئے۔کھانے میں ساگ اور مکئی کی روٹیاں تیار کیں۔جب حضور مع چند احباب تشریف لائے تو نیچے دریاں وغیرہ بچھا کر اوپر چادریں بچھا دی گئیں اور گاؤ تکیے رکھے گئے حضور وہاں بیٹھ گئے۔حضور نے آدھی روٹی کھائی۔جب واپس جانے لگے تو فرمایا قطب الدین ساگ تو بہت اچھا پکا ہے مگر نمک تھوڑا زیادہ ہے۔حضور کے جانے کے بعد آپ نے ساگ چکھا تو نمک معمول سے کافی زیادہ تھا اور ساگ کافی کڑوا تھا آپ نے بھا بھی سے پوچھا تو کہنے لگیں میں نے چکھا ہی نہیں کہ کہیں حضور کو جو ٹھا کھانا نہ دیا جائے۔بہر حال حضور کا وسعت حوصلہ اور اعلی ظرفی تھی کہ غلام کو شرمندہ نہ ہونے دیا۔آپ ۱۹۴۷ء میں ہجرت کر کے قادیان سے پاکستان آگئے اور بقیہ عمر ربوہ میں بسر کی۔بہت مخلص، دعا گوا اور صاحب رؤیا بزرگ تھے۔جب ہجرت کر کے پاکستان آئے تو ابتدا میں لاہور میں ہی تھے، کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔آپ کے ساتھ آپ کے پوتے تھے جن کے والد ( ٹھیکیدار غلام محمد صاحب) قادیان ہی ٹھہر گئے تھے اس وقت آپ نے ان بچوں کو بہت سہارا دیا مہاجرین کی طرح سڑکوں پر سوتے آپ ایک بوری نیچے بچھاتے اور ایک اوپر لیتے۔ایسی حالت میں نہایت غمزدہ تھے۔ایک دن ایک شخص آیا اور پوچھا بابا جی آپ کیوں رور ہے ہیں آپ نے فرمایا یہاں سب رور ہے ہیں میں رویا تو کیا ہوا۔اس نے کہا نہیں پھر بھی آپ بتائیں۔آپ نے بتایا کہ میں قادیان کا رہنے والا ہوں وہاں میری زمین تھی ، مال مویشی تھے وہاں میں ان بچوں کوکھلایا پلایا کرتا تھا اور ہر طرح کا خیال رکھتا تھا اب یہاں اتنی تنگ حالت ہے میں اپنے بچوں کے لئے کچھ بھی نہیں کر پارہا۔اس نے کہا بابا جی آپ کے پاس کچھ پیسے ہیں آپ نے فرمایا ہاں چالیس روپے ہیں۔اس شخص نے زمین پر سے گرا ہوا کوئی کاغذ اٹھایا اور اس پر کچھ لکھ دیا اور کہا کہ وہ فلاں جگہ (جو دھا مل بلڈنگ کے پاس کہیں راشن مل رہا ہے آپ بھی لے لیں۔آپ وہاں پہنچے لوگوں کا بہت ہجوم تھا آپ بھی کھڑے ہو گئے انتظامیہ نے کہا کہ یہاں سے ذرا پیچھے ہٹ جاؤ، وہاں کھڑے ہو جاؤ ( جیسا کہ رش کے موقعوں پر ہوتا ہے ) آپ نے وہ کاغذ دکھایا تو وہ آپ کو اور بچوں کو ساتھ والی قطار میں لے گیا اور جہاں سے تھوڑی ہی دیر میں آپ کو پانچ روپے کا ہفتہ بھر کا راشن (چاول ، گڑ ،شکر وغیرہ) مل گیا جس سے گذارا چلتا رہا آخر جب لاہور چھوڑ کر آگئے تو وہ کا غذ ایک غریب عورت کو دے آئے نہ جانے وہ شخص کون تھا جوا ایسے کڑے وقت میں الہی مدد کا ذریعہ بنا۔