تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 294
تاریخ احمدیت۔جلد 24 294 سال 1967ء رجسٹر روایات میں آپ کی چند روایات بھی محفوظ ہیں ایک روایت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ حضرت اقدس نے بعض لوگوں کی دعوت کی۔ہمارے مکان پر ایک سائیں رہا کرتا تھا وہ بھی کھانا کھانے گیا۔جب اطلاع کرنے والا آیا والد صاحب نے کہا حضرت صاحب کو کہہ دینا کہ حامد کہتا تھا کہ دو آدمیوں کی روٹی زیادہ پکانا کھانے سے واپسی پر سائیں کہنے لگا کہ تمام عمر توڑی (بھوسہ) سے پیٹ بھرتا رہا ہوں صرف آج کھانا کھایا ہے۔۱۹۶۶ء میں مجلس شوریٰ میں آپ کو بطور صحابی شمولیت کا اعزاز ملا۔آپ کا نام صحابہ کرام قبل از ۱۹۰۰ء میں اس طرح شامل ہے۔۵۳ مکرم مہر قطب الدین صاحب ربوہ۔آپ مجلس انتخاب خلافت میں بھی شامل تھے۔آپ کا نام تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین کی مطبوعہ فہرست کے صفحہ ۱۸ اپر مذکور ہے۔اولاد 39۔ا ٹھیکیدار غلام محمد صاحب ۲۔رحمت اللہ صاحب حضرت با با غلام محمد صاحب در ویش قادیان ولادت: ۱۸۸۰ء 42 بیعت : ۱۹۰۲ء وفات ۲۰ را پریل ۱۹۶۷ء چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی سیکرٹری بہشتی مقبرہ قادیان نے لکھا:۔بابا جی موضع ما نگا ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔لیکن ابتدائے درویشی سے خدمت مرکز کے لئے یہاں مقیم تھے۔پرانی وضع کے بزرگ تھے۔منحنی سا قد وقامت تھا۔اور سرما ہو یا گرما سفید لباس میں ملبوس رہتے تھے۔بڑھاپے کی وجہ سے پہرہ وغیرہ کی ہلکی ڈیوٹیاں دیتے رہے۔مگر آخری چند سالوں میں ضعف پیری کے باعث تمام ڈیوٹیوں سے فارغ رہے۔جن ایام میں وہ بہشتی مقبرہ میں پہرہ کی ڈیوٹی دیتے تھے۔غیر مسلم زائرین کو بڑے جوش سے تبلیغ کیا کرتے تھے۔گوان پڑھ تھے۔مگر جماعتی مسائل سے واقفیت رکھتے تھے۔آپ کا عرف بابا حویلی“ تھا۔اور اس تسمیہ کی وجہ یوں پیدا ہوئی کہ آپ مجرد تھے۔اور اپنے گاؤں میں ہمیشہ اپنی حویلی میں حاضر رہتے تھے۔اسی نسبت سے 'بابا حویلی نام پڑ گیا تھا۔آپ نے ۱۹۰۲ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔موصی بھی تھے۔۲۰ را پریل ۱۹۶۷ء کو ۸۷ سال کی عمر میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ کے قطعہ نمبر ۸ میں دفن ہوئے۔“ 43