تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 292
تاریخ احمدیت۔جلد 24 دو 292 سال 1967ء ” جب والد صاحب مرحوم بیمار ہوئے۔بارہ دن بیمار رہے۔ہم نے پوچھا کہ کسی کو ملنا چاہتے ہو۔کہتے ہاں۔حضرت صاحب کو ملنا چاہتا ہوں۔چنانچہ حضور کو اطلاع کی گئی۔حضور میں چھپیں آدمیوں کے ساتھ تشریف لائے۔حالات دریافت کرتے رہے۔والد صاحب کی پہلی میں درد ہوتا تھا۔فرمایا کس کا علاج کرتے ہو۔والد صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب کا ( مراد حضرت مولوی نورالدین صاحب) فرمایا کیا تکلیف ہے۔اس نے کہا پہلی میں درد اور بخار ہوتا رہتا ہے۔حضور نے فرما یا ایلواسہا گہ اور مرغی کے انڈے کا لیپ کرو۔مولوی صاحب نے فرمایا یہ نسخہ استعمال کیا ہے لیکن فائدہ نہیں ہوا۔حضرت اقدس نے کسی اور دوا کا نام لیا۔مولوی صاحب نے فرمایا اس کا استعمال بھی کیا ہے لیکن فائدہ نہیں ہوا۔اس پر حضور نے تیسری دوا کا نام لیا، مولوی صاحب نے فرمایا اس سے فائدہ نہیں ہوا۔اس پر حضرت اقدس نے فرما یا ایلو اسہا گہ اور مرغی کا انڈہ لاؤ میں اپنے ہاتھ سے لیپ کروں گا۔انشاء اللہ آرام آجائے گا۔اس پر مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضور تکلیف نہ کریں میں دوبارہ خود کروں گا۔چنانچہ لیپ کیا گیا۔جوں جوں مولوی صاحب لیپ کرتے درد ہلتا جاتا۔حتی کہ بالکل فائدہ ہو گیا لیکن بخار نہ گیا۔حضور بعد میں پھر تیسرے دن تشریف لائے۔دو دفعہ بعد میں آئے۔جس دن تیسرے دن تشریف لائے پندرہ منٹ تک پاس بیٹھے رہے اور فرمایا تم گھبراؤ نہیں۔جس جگہ تم جار ہے ہو ہم بھی وہیں آئیں گے۔انہی دنوں والد مرحوم فوت ہو گئے۔مہمان خانہ میں حضرت (اقدس) نے جنازہ پڑھایا۔پرانے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ان دنوں بہشتی مقبرہ نہیں تھا۔شیخ یعقوب علی صاحب (عرفانی) نے کہا حضور سلسلہ کی چوتھی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔جو مہمان باہر سے آتے تھے وہ حضور کے پاس یا مولوی صاحب کے پاس یا میرے پاس یا اس کے پاس ٹھہرتے تھے۔حضرت اقدس) نے دعائے خیر دی۔حضرت مہر قطب الدین صاحب قادیان میں اپنی زرعی زمین ہونے کی وجہ سے زمیندارہ کا کام کرتے تھے۔آپ کی شادی پٹھا نہ والہ نز دلا ہور میں محترمہ مہتاب بی بی صاحبہ کے ساتھ ہوئی۔قادیان میں ایک مرتبہ آپ نے حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کو دعوت طعام دی۔حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قدیمی تعلق ہونے کی وجہ سے از راہ شفقت دعوت قبول فرمائی۔آپ کا گھر کچا لیکن کشادہ تھا، دیہاتی طرز زندگی تھا باہر مال مویشی بندھے تھے۔دیواروں پر گوبر کے اوپلے ( پاتھیاں ) لگی تھیں جن پر چادریں ڈال کر انہیں ڈھانک دیا گیا تا کہ ظاہر نہ ہوں اور بد بو وغیرہ نہ آئے ، مال مویشی گھر