تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 283 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 283

تاریخ احمدیت۔جلد 24 283 سال 1967ء ایسی بیعت کا کوئی فائدہ نہیں، اگر استقامت نہ ہو۔چنانچہ چنہ کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ مرتد ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو انہی ایام میں ایک الہام ہوا۔فَزِعَ عِيسَى وَمَنْ مَّعَهُ۔ہم نے اس الہام سے غم سمجھا تھا۔چنانچہ اس کے دو مہینے کے عرصے میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات ہوگئی اور سب کو غم ہوا۔اس طرح ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وضو کر نے کے بعد اٹھنے لگے تو دریچہ جو کھلا تھا۔اس سے حضور کو چوٹ لگی اور بڑا خون نکلا۔اور ہم سب کو بڑا صدمہ ہوا۔قادیان میں دوبارہ آمد حضرت ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ دوسری بار ۱۹۰۷ء میں سالانہ جلسہ پر قادیان آنے کی توفیق ملی۔گو اس زمانے میں بھی میں طالب علم تھا۔مگر جماعت کا سیکرٹری بھی تھا۔صدرانجمن نے جماعت کے نمائندوں کو مشاورت کے لئے بلایا تھا۔مشاورت کا وقت مغرب عشاء کے بعد تھا۔میں نے صبح آٹھ بجے کھانا کھایا تھا اور میں نے خیال کیا تھا کہ جلدی ہی اجلاس ہو جائے گا۔تو واپس آکر کھانا کھالوں گا۔میں بھی اس اجلاس میں جا کر بیٹھ گیا۔اس اجلاس میں خواجہ کمال الدین صاحب، خان صاحب برکت علی خان صاحب اور خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب بھی شامل تھے یہ مشاورت رات کے گیارہ بجے ختم ہوئی۔اس عرصہ میں لنگر خانہ بند ہو گیا تھا۔میں اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ایک خشک ٹکڑا میرے ہاتھ لگ گیا اور میں نے اسے چبانا شروع کیا۔مگر بھوک بند نہ ہوئی۔میں ابھی سویا نہیں تھا کہ دروازہ پر دستک ہوئی کہ جو یہاں بھوکا ہو کھانا کھالے۔دوسرے دن صبح کو دیکھا کہ حضرت صاحب مسجد مبارک پر کھڑے ہیں اور حضرت خلیفتہ اُ يفته السيح الا ول بھی ہیں۔حضور بڑے جوش سے فرمارہے تھے۔رات کو مہمان بھو کے رہے اور مجھے الہام ہوا۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ مجھے تیسری مرتبہ لاہور میں زیارت کا موقعہ نصیب ہوا۔اس وقت میں میڈیکل کالج کا طالب علم تھا۔۲۰ را پریل ۱۹۰۸ء کو میں لاہور آ گیا تھا ۲۷ را پریل ۱۹۰۸ء کو حضور لا ہور تشریف لے آئے۔ہم روز جاتے اور زیارت سے شرف یاب ہوتے۔حضور کا ان ایام میں معمول تھا کہ روزانہ شام کو سیر