تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 282 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 282

تاریخ احمدیت۔جلد 24 282 سال 1967ء سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ کا اثر مجھ پر ہونے لگا۔اور جو کتاب آتی آسانی سے پڑھی جاتی اور جو اخبار آتا تھا وہ شوق سے پڑھا کرتا تھا۔پھر بچپن کی عمر میں دعا کی طرف توجہ ہوگئی بعض دعاؤں کے اثرات بھی دیکھنے میں آئے۔سوم تیسر ا زمانہ وہ تھا جب یہ شوق پیدا ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی جائے۔میں ابھی متعلم ہی تھا۔میں نے اس غرض کے لئے نہایت توجہ سے دعا کی تو میں نے دیکھا کہ میں مسجد کے حجرے میں لیٹا ہوا ہوں کہ حضرت صاحب دروازہ کھول کر اندر تشریف لے آئے۔میں اٹھ کر چمٹ گیا اور رونے لگا۔اس رؤیا کے دس پندرہ دن کے بعد میرا قادیان آنے کا بندو بست ہو گیا۔قادیان آنے والے تین بڑے آدمی تھے۔(حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ پٹیالہ، حضرت حافظ نور محمد صاحب سیکرٹری ، حاجی مستری محمد صدیق صاحب پٹیالوی) اور ہم تین (ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب، میاں خدا بخش المعروف مومن جی ، شیخ محمد افضل صاحب) طالب علم تھے چنانچہ اس وقت کے اخبار بدر میں میرا نام حشمت اللہ طالب علم چھپا ہوا موجود ہے۔اس وقت مہمان خانہ کچا تھا اور بہت مختصر تھا ایک کوٹھڑی میں سید احمد نور صاحب دکان کیا کرتے تھے اور ایک کوٹھڑی میں سید عبدالحی صاحب عرب دکان کرتے تھے۔پہلی بار مجھے نماز مغرب میں آنے کا اتفاق ہوا۔میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ڈھونڈ رہا تھا۔مجھے ایک شخص دکھائی دیا مگر فورا ہی میری نظر نے اندازہ لگایا کہ یہ حضرت صاحب نہیں ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد حضور تشریف لائے اور نماز کے بعد شاہ نشین پر بیٹھ گئے۔ایک شخص عبد الحق نامی جو نومسلم ( آریہ ) تھا۔ہم سے پہلے قادیان میں آیا ہوا تھا۔اس نے ذکر کیا کہ میں تین چار دن سے آیا ہوا ہوں۔مگر حضرت صاحب نے میری بیعت نہیں لی۔مگر حضرت صاحب نے دوسرے ہی دن ہماری بیعت لے لی۔اس شخص نے بھی ہماری بیعت کے وقت اپنا ہاتھ رکھ دیا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس امر کا علم نہ ہوا۔اگلی صبح حضرت صاحب حضرت میاں بشیر احمد صاحب والے مکان کے پاس کھڑے تھے کہ عبدالحق نو مسلم بھی وہاں آ گیا۔اس نے عرض کی کہ حضور دعا کریں میں نے بیعت تو کر لی ہے۔یہ سن کر حضور کے چہرے پر تغیر واقع ہو گیا۔حضور نے فرمایا: