تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 284 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 284

تاریخ احمدیت۔جلد 24 284 سال 1967ء کو تشریف لے جاتے۔حضرت اماں جان بھی ساتھ ہوتی تھیں اور بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی گاڑی کے پچھلی طرف کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔الغرض ہم روزانہ حضور کی زیارت سے مشرف ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شاہزادہ ابراہیم نے دعوت کی اور دعوت کے طور پر مبلغ پچاس روپے کی رقم بھیج دی۔حضور نے اس رقم میں اپنی طرف سے اور رقم شامل کر کے روؤساءلا ہور کی دعوت فرمائی۔اور اس دعوت میں حضور نے بڑے جوش سے ایک تقریر فرمائی۔جو سب مہمانوں نے سنی تھی۔دورانِ تقریر میں حضور نے دودھ کا ایک گھونٹ بھی پیا تھا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری تقریر بھی سنی تھی۔وہ تقریر آخری تقرریتی اور ایک قسم کی وصیت تھی۔اس میں فرمایا تھا۔”دیکھو ہمارے لئے بڑا خوف کا مقام ہے۔کروڑوں آدمی ہمارے خلاف ہیں۔اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہ کیا تو ہم دین سے بھی گئے۔اور دنیا سے بھی گئے۔“ ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی شام کو ہم نے تو حضور کو سیر کے لئے رخصت کیا۔مگر صبح دس بجے آپ کی وفات ہوگئی۔ایک مرتبہ لاہور میں حضور کا جنازہ پڑھا گیا۔پھر جنازہ گاڑی میں رکھکر بٹالہ لایا گیا۔بٹالہ سے چار پائی پر رکھ کر قادیان لایا گیا۔میرا چونکہ قد چھوٹا تھا اس لئے میں نے چار پائی کے پچھلی طرف اپنا سر دے دیا اور اس طرح کئی میل تک چلا آیا۔اللہ تعالیٰ نے چونکہ حضرت ڈاکٹر صاحب کے لئے حضرت مصلح موعود اور جماعت کی عظیم طبی خدمات ازل سے مقدر کر رکھی تھیں۔اس لئے انتہائی ناموافق حالات کے باوجود ۲۰ را پریل ۱۹۰۸ء کو میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔خدا تعالیٰ کے اس غیر معمولی فضل نے آپکا سر آستانہ الوہیت پر ایسا گرا دیا کہ عمر بھر پھر اس کی بارگاہ سے کبھی نہ اٹھا۔یہانتک کہ باری تعالی کی مخفی در مخفی ذات آپ کے قلب وروح پر مستولی ہوگئی۔کالج کا چار سالہ تعلیمی دور تعلیم کے ساتھ ساتھ نمازوں اور سجدوں میں گذرا۔اور آپ آخری امتحان میں کامیاب ہو کر ۱۲ جون ۱۹۱۲ء سے ریاست پٹیالہ کے سب سے بڑے ہسپتال راجندر ہسپتال میں ملازم ہو گئے۔آپ کی شب و روز دُعاؤں کے مزید اثرات رفتہ رفتہ نمایاں سے نمایاں تر ہونے لگے۔اور ابھی ایک سال بھی ختم نہ ہو پایا تھا کہ آپ کے سب سے بڑے افسر ڈاکٹر