تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 281 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 281

تاریخ احمدیت۔جلد 24 281 سال 1967ء آپ تحصیل نکو در ضلع جالندھر کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔قیام پاکستان کے بعد جڑانوالہ (ضلع فیصل آباد ) میں سکونت اختیار کی۔زیادہ علم نہ رکھتے تھے۔مگر کئی ابتلاؤں میں کامیاب ہوتے رہے۔بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کئے گئے۔جنازے کے ساتھ آپ کے غیر احمدی رشتہ دار بھی تھے۔آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔10 حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب پٹیالوی ولادت : ۱۸۸۷ء (غالبا) بیعت: جون ۱۹۰۲ء 2 وفات :۱۳ را پریل ۱۹۶۷ء سرہند بھارت کے مشہور شہر پٹیالہ سے اکیس میل پر ایک مشہور قصبہ ہے جو سکندراعظم کے وقت سے آباد ہے۔اور حضرت مجد دالف ثانی شیخ احمد سر ہندی کا مولد و مدفن ہونے کے باعث مرجع خلائق ہے۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کے پردادا احمد خاں صاحب اسی شہر میں سکونت پذیر تھے اور سپہ گری کرتے تھے۔۱۸۸۷ء کے قریب آپ یہاں سے سیف آباد اور پھر پٹیالہ منتقل ہو گئے۔اس خاندان میں احمدیت کی نعمت حضرت ڈاکٹر صاحب کے دادا حضرت مولا بخش صاحب (وفات ۱۹۰۰ء) اور والد ماجد حضرت رحیم بخش صاحب ( وفات اگست ۱۹۰۷ء) کے ذریعے پہنچی۔جنہوں نے ۱۸۹۹ء میں مولوی عبدالقادر صاحب (وفات ۳۱ دسمبر ۱۹۲۰ء) جمالپوری کے ہاتھ پر بیعت کی۔(آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے بیعت لینے کے مجاز تھے )۔اس بیعت کے وقت حضرت ڈاکٹر صاحب بھی موجود تھے۔اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی۔14 حضرت ڈاکٹر صاحب خود اپنی بیعت کے متعلق بیان فرماتے ہیں: میری بیعت کا زمانہ تین وقتوں پر تقسیم ہوسکتا ہے۔اول جبکہ میں پرائمری سکول کا طالب علم تھا اس زمانہ میں ہمارے محلے کی مسجد کا ایک متولی احمدی ہو گیا۔اس وقت میں نے احمدیت کا نام سنا۔پھر ۱۸۹۸ ء یا ۱۸۹۹ء میں مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی پٹیالہ میں آئے۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینے کا اختیار دیا ہوا تھا۔انہوں نے ہمارے کنبے کی بیعت لی۔میرے والد صاحب اور بھائی صاحب اور دادا صاحب نے بیعت کی۔جنکی عمر ۹۰ سال کی تھی۔اور میں اسوقت پاس موجود تھا۔دوم پھر مجھے جب ذرا شعور پیدا ہوا تو ۱۹۰۱ء میں میں نے اپنی بیعت کا خط لکھا۔اس وقت