تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 258 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 258

تاریخ احمدیت۔جلد 24 258 سال 1967ء کا جہاں اظہار ہوتا ہے۔وہاں عقل کی رسائی نہیں۔اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت اپنے بندوں پر جلوہ گر ہوتی ہے۔اور تمام اندازوں کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے۔اگر یہ امید رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں بھی اس جماعت کو اسی رنگ میں اور اسی حد تک قربانیاں دینے کی توفیق دے گا جس طرح گذشتہ پچھتر سال وہ دیتا رہا ہے۔اور اس کے نتیجہ میں ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی اسی رنگ میں ہوتے رہیں گے۔یہ تعداد اگر اسی نسبت سے بڑھتی رہے تو آج سے پچھتر سال کے بعد تین ارب اور نو ارب کے درمیان ہو جائے گی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم اپنی دعاؤں سے اور اپنی تدبیر سے اور اپنی قربانیوں سے اور اپنی فدائیت اور جاں شاری سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح جذب کرتے رہیں۔جس طرح گذشتہ پچھتر سال میں ہم نے جذب کیا تھا تو اگلے پچھتر سال میں اسلام دنیا پر غالب آجائے گا۔اور نشاۃ ثانیہ کی جو مہم ہے وہ پوری کامیابی کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہو جائے گی۔خدا کرے کہ جماعت کو اسی طرح قربانیاں دینے کی توفیق ملتی رہے۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ میں ان کے اموال میں برکت ڈالوں گا۔اب اموال کو ہم دیکھتے ہیں۔۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں ۱۸۹۳ء کے لئے چندوں کے وعدے دئے گئے۔(وہ انتظام اس وقت قائم نہیں تھا، جو آج قائم ہے ) اور وہ وعدے ساری جماعت کے سمجھے جانے چاہئیں کیونکہ تمام مخلصین جلسہ سالانہ پر جمع ہو جاتے تھے۔تو ۱۸۹۳ء کے لئے ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ پر جماعت نے جو وعدے دئے ان کی رقم سات سو کچھ روپے تھی۔اور آج ”پچھتر سال گذرنے کے بعد عملاً جماعت جو مالی قربانیاں خدا کی راہ میں پیش کر رہی ہے۔اس کی رقم ایک کروڑ سے او پر نکل گئی ہے۔ہم سات سو کی بجائے اگر ایک ہزار لے لیں۔( کیونکہ ان وعدوں کے علاوہ وہ دوست جو بعض مجبوریوں کی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔انہوں نے بعد میں وعدے کئے ہوں گے اور رقمیں بھجوائی ہوں گی۔تو اگر ۱۸۹۲ء کی آمد ایک ہزار روپیہ سمجھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں ۱۹۶۷ء کی آمد ایک کروڑ سے اوپر نکل گئی ہے۔تحریک جدید کے چندے، صدرانجمن کے چندے، وقف جدید کے چندے،