تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 259 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 259

تاریخ احمدیت۔جلد 24 259 سال 1967ء وقف عارضی کا جو خرچ ہوتا ہے (اگر چہ وہ ہمارے رجسٹروں میں درج نہیں ہوتا۔لیکن وہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہے۔جو ایک احمدی کر رہا ہے۔اپنے خرچ پر باہر جاتا ہے۔کرایہ خرچ کرتا ہے۔وہاں اپنے گھر سے زائد اسے خرچ کرنا پڑتا ہے) ان سب کو اگر اکٹھا کیا جائے تو یہ رقم ایک کروڑ سے کہیں اوپر نکل جاتی ہے۔میں ایک کروڑ کی رقم اس وقت لے لیتا ہوں تو ایک ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ تک ہماری مالی قربانیاں پہنچ گئیں۔یہ بھی دس ہزار گنا رقم بن جاتی ہے۔گویا ایک روپے کے مقابلہ میں دس ہزار روپے کے چندے بنتے ہیں۔یعنی ۱۸۹۲ء میں اگر جماعت نے ایک روپیہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق اپنے رب سے حاصل کی۔تو اسی برگزیدہ جماعت نے ۱۹۶۷ء میں دس ہزار روپیہ (اس ایک روپیہ کے مقابلہ میں ) خرچ کرنے کی اپنے رب سے توفیق پائی۔یہ تو چندوں کی نسبت ہے مگر وعدہ کیا گیا ہے کہ اموال میں برکت دی جائے گی۔اب جس نسبت سے جماعت کے اموال بڑھے ہیں۔وہ دس ہزار گنا سے زیادہ ہے۔کیونکہ ۱۸۹۲ء میں قریباً سو فیصدی مخلص تھے اور پوری قربانی دے رہے تھے خدا کی راہ میں۔لیکن ۱۹۶۷ء میں تعداد چونکہ بڑھ گئی ہے۔بہت سے ہم میں سے ایسے ہیں جو تربیت کے محتاج ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ آج سے ایک سال یا دو سال یا چار سال یا پانچ سال کے بعد اس ارفع مقام پر پہنچ جائیں گے جس پر اللہ تعالیٰ انہیں دیکھنا چاہتا ہے اور ان کے چندوں کی شرح اس شرح کے مطابق ہو جائے گی جو ۱۸۹۲ء میں مخلصین دیا کرتے تھے۔اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جو اموال منقولہ اور غیر منقولہ ۱۸۹۲ء کے احمدیوں کے پاس تھے۔آج اس کے مقابلہ میں جماعت کے مجموعی اموال منقولہ یا غیر منقولہ کی قیمت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دس ہزار گنا سے زیادہ برکت ڈال دی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل ہم پر نازل ہور ہے ہیں۔جس نقطہ نگاہ سے بھی ہم دیکھتے ہیں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا حقیقت افروز مضمون