تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 257 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 257

تاریخ احمدیت۔جلد 24 257 سال 1967ء ڈالوں گا۔یہ ۱۹۶۷ ء ہے۔اس میں سے پچھتر ہم نکال دیں تو ۱۸۹۲ء کا سال بنتا ہے اور جب ہم ۱۸۹۲ء اور ۱۹۶۷ء کے درمیان پچھتر سالہ عرصہ پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں اور مجموعی ترقی نفوس میں اور اموال میں مشاہدہ کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو قدرت کاملہ کا مالک ہے۔اپنے بندوں پر کس طرح فضل کرتا ہے۔۱۸۹۲ء میں نفوس کے لحاظ سے (۱۸۹۲ء کے صحیح اعداد و شمار تو غالباً ہمارے ریکارڈ میں نہیں۔کیونکہ ہماری سینسز (مردم شماری) کبھی نہیں ہوئی۔لیکن ایک عام اندازہ کیا جا سکتا ہے۔جلسہ سالانہ (۱۸۹۲ء میں حاضری جلسہ ۳۲۷ تھی ) کی حاضری دیکھ کر وغیرہ وغیرہ) کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ یا اگر بہت ہی گھلا اندازہ کیا جائے تو ایک ہزار سے تین ہزار کے درمیان تھی۔عام اندازے کے مطابق ۱۹۶۷ء کی یہ تعداد اس چھوٹی سی تعداد سے بڑھ کر کم و بیش تھیں لاکھ کے قریب ہوگئی ہے۔میرے اندازے کے مطابق تمہیں لاکھ سے کچھ اوپر ہے۔اس زیادتی میں دو چیزیں اثر انداز ہوئیں۔ایک پیدائش دوسرا تبلیغ۔ہر دورا ہوں سے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے نفوس میں برکت ڈالی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا تو یہ فرمائی تھی کہ اک سے ہزار ہوویں۔لیکن جب اس تعداد کا جو ۱۹۶۷ء کی ہے۱۸۹۲ء کی تعداد سے ہم مقابلہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے نتیجہ میں عملاً یہ کیا کہ تم اک سے ہزار مانگتے ہو، میں اک سے تین ہزار کرتا ہوں۔چنانچہ جب ہم ان دو اعداد و شمار کا آپس میں مقابلہ کرتے ہیں، گو (اگر اس وقت ایک ہزار احمدی سمجھے جائیں ) ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو تین ہزار کر دیا ہے اک کو ہزار نہیں۔اک کو تین ہزار بنادیا ہے کیونکہ تین ہزار کو ہزار کے ساتھ ضرب دیں تب یہ موجودہ شکل ہمارے سامنے آتی ہے۔اور اگر۱۸۹۲ء میں جماعت کی تعداد تین ہزار بھی جائے جو میرے نزدیک بہت زیادہ اندازہ ہے تو پھر بھی اس سے اک سے ہزار ہو دیں والی دعا اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی اور پچھتر سال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کے نفوس کو ایک ہزار گنا زیادہ کر دیا ہے۔یہ معمولی زیادتی نہیں حیرت انگیز زیادتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت