تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 256 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 256

تاریخ احمدیت۔جلد 24 256 سال 1967ء تھی تا کہ یہ جماعت کو بیدار رکھ سکے۔اس غرض کو سو فیصدی پورا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام مجالس انصار اللہ کے نمائندے اپنے سالانہ اجتماع میں شامل ہوا کریں اور احباب کثرت کے ساتھ بار بار اپنے مرکز میں آئیں۔اور مرکز سے اور خلافت سے پختہ تعلق قائم رکھیں۔اس ضمن میں حضور نے اس غلط فہمی کا پوری قوت و شوکت کے ساتھ ازالہ کیا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل جماعت پر شاید کسی خاص وجود کی وجہ سے نازل ہورہے ہیں۔حضور نے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان فرمایا کہ یہ بالکل غلط خیال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں اور فضل ساری جماعت پر جو کہ اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ جماعت ہے، نازل ہورہے ہیں۔میرا اور جماعت کا وجود ایک ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ خلیفہ وقت کے دل میں جماعت کے لئے اتنی محبت پیدا کر دیتا ہے کہ دنیا اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتی۔دوسری طرف وہ جماعت کے دل میں بھی خلیفہ وقت کے لئے شدید محبت پیدا کر دیتا ہے۔جب دو محبتوں کی یہ آگ مل کر اکٹھی ہوتی ہے تو ایک وجود بن جاتا ہے اور یہی وجود ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کا مورد ہے۔ساری بزرگی اس جماعت کو حاصل ہے جس کے افراد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے درخت وجود کی سرسبز شاخیں قرار دیا ہے۔حضور نے فرمایا نادان ہیں وہ لوگ جو اپنی قبولیت دعا یا اپنی خوابوں کو ظاہر کر کے بزرگ بننا چاہتے ہیں۔اور اپنے آپ کو جماعت پر مقدم سمجھتے ہیں اور جماعت کی محبت اپنے لئے حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ نادانی اور ہلاکت کی راہ ہے۔202 تاریخ احمدیت کے پچھتر سالوں پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی طائرانہ نگاہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ۳ نومبر ۱۹۶۷ء کے خطبہ جمعہ میں تاریخ احمدیت کی پون صدی پر نہایت بصیرت افروز رنگ میں طائرانہ نگاہ ڈالی اور تبصرہ کیا۔چنانچہ فرمایا:۔” جب اس زمانہ میں نشاۃ ثانیہ کی ابتدا میں مخلصین کی ایک جماعت پیدا ہوئی۔اور انہوں نے اپنے وقتوں اور زندگیوں اور اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک وعدہ کیا۔اور وہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ( جماعت کے متعلق ) کہ میں ان کے نفوس اور ان کے اموال میں برکت ڈالوں گا۔آؤ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کس رنگ اور کس شان کے ساتھ پورا ہوا۔میں اس وقت جماعت احمدیہ کی تاریخ کے پچھتر سالوں پر طائرانہ نگاہ