تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 255
تاریخ احمدیت۔جلد 24 255 سال 1967ء لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا دسواں سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع احاطہ دفتر لجنہ اماءاللہ میں مورخہ ۲۰ تا۲۲ را کتوبر ۱۹۶۷ء منعقد ہوا۔آغاز ناصرات الاحمدیہ کی کھیلوں سے ہوا۔جس کے بعد حضرت سیدہ ام متین مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ناصرات الاحمدیہ سے خطاب فرمایا۔اس کے بعد محترمہ بشری بشیر صاحبہ جنرل سیکرٹری نے مختلف بیرونی لجنات کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔مورخہ ۲۱ اکتوبر کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے لجنات کو اپنے بصیرت افروز خطاب سے نوازا۔حضور نے خطاب کرتے ہوئے خوف خدا اور خشیت الہی کی نہایت اعلی تشریح کی اور فرمایا کہ ان صفات کو اپنائے بغیر کوئی مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان نہیں کہلا سکتا۔اس لئے ہر مومنہ کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اللہ تعالی کا خوف اور اس کی خشیت پیدا کرے۔حضور کا خطاب ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔اجتماع سے حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ محترمہ آمنہ طیبہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم صاحبزاده مرزا مبارک احمد صاحب، حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ اور حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے بھی خطاب فرمایا۔۱۹۶۶ء میں ربوہ کے علاوہ کل بہتر دیہاتی و شہری لجنات کی ۱۳۸۸ ممبرات اجتماع میں شامل ہوئی تھیں۔۱۹۶۷ء میں اللہ تعالی نے ۸۵ لجنات کی ۵۸۸ نمائندگان کو شرکت کی توفیق عطا فرمائی۔ربوہ کے مکینوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔اس موقع پر لجنہ کی مجلس شوریٰ بھی منعقد ہوئی۔اجتماع مجلس انصار اللہ مرکزیہ سے حضور انور کے بصیرت افروز خطابات 201 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کے چند روز بعد ۲۹،۲۸،۲۷/اکتوبر ۱۹۶۷ء کو مجلس انصار اللہ مرکز یہ کا بارہواں سالانہ اجتماع انابت الی اللہ کے روح پرور ماحول اور دعاؤں اور ذکر الہی کی مخصوص روایات کے ساتھ منعقد ہوا۔جس کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے دوبارا اپنے بصیرت افروز خطاب سے نوازا۔حضور نے انصار اللہ کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہیں اس فرض کی طرف خصوصی توجہ دلائی کہ انصار اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کو دیکھتے ہوئے اپنی قربانیوں کے معیار کو بڑھاتے چلے جائیں نیز فرمایا کہ حضرت مصلح موعود نے انصار اللہ کی تنظیم اس لئے قائم فرمائی