تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 251 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 251

تاریخ احمدیت۔جلد 24 251 سال 1967ء ٹورنامنٹ کے اختتام پر کامیاب ٹیموں اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم فرمائے اور ایک مختصر مگر پر معارف خطاب فرمایا۔جس کے دوران حضور نے یہ نصیحت فرمائی:۔کبڈی، کرکٹ یا دوسری کھیلیں ہماری زندگی کا مقصد نہیں بلکہ ہماری زندگی کا مقصد ان ہدایات کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے جو قرآن کریم نے دی ہیں۔مثلاً اس نے کہا ہے کہ تم ایک دوسرے سے خیر خواہی کرو۔کسی کو دُکھ نہ دو۔ہر ایک سے محبت اور پیار کا سلوک کرو۔ان کے علاوہ اور سینکڑوں ہدایات ہیں جو قرآن کریم نے دی ہیں اور فرمایا ہے کہ تم ان پر عمل کرو۔قرآن کریم نے ان ہدایات کے ذریعہ ایک نہایت ہی اچھا معاشرہ پیدا کیا ہے۔اس معاشرہ کو دیکھ کر ہم یہ اعلان کرنے کے قابل ہیں اور اعلان کرتے صلى الله ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود ساری دنیا کے لئے محسن اعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔گذشتہ دنوں مجھے یورپ کا سفر کرنے کا موقع ملا ہے۔اس سفر کے دوران میں نے وہاں کے رہنے والوں کو خوب جھنجھوڑ کر یہ صداقت بتائی کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔اور محمد رسول اللہ ﷺ ( جو آپ سب کے محسن اعظم ہیں ) کے مقام کو سمجھنے کی کوشش کرو۔اس کے بغیر تمہیں نجات نہیں ملے گی۔تم اس تباہی سے نہیں بچ سکو گے جو جلد ہی تمہیں اپنی لپیٹ میں لینے والی ہے۔غرض قرآن کریم نے جو معاشرہ پیدا کیا ہے اُسی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے نتیجہ میں دنیا آئندہ تباہی سے بچ سکتی ہے۔اس وقت جو نئے نئے ہتھیار مثلاً ایٹم بم، ہائیڈ روجن بم ایجاد ہورہے ہیں۔یہ تباہی سے بچانہیں سکتے بلکہ ان کے غلط استعمال اور خدا تعالیٰ کی دیگر نعمتوں کے غلط استعمال کے نتیجہ میں دنیا تباہی کی لپیٹ میں آئے گی اور اس تباہی سے تم بچ نہیں سکتے جب تک تم رسول کریم ﷺ اور قرآن کریم کی ہدایات پر عمل نہ کرو۔166 خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع پر بصیرت افروز خطابات اس سال مجلس خدام الاحمدیہ کا چوبیسواں سالانہ اجتماع ۲۱،۲۰ اور ۲۲/اکتوبر کو منعقد ہوا۔جس کے آغاز اور اختتام پر امام عالی مقام سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے بصیرت افروز تقاریر فرمائیں