تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 252 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 252

تاریخ احمدیت۔جلد 24 252 سال 1967ء جس میں خدام کو نہایت مؤثر انداز میں یہ نصیحت فرمائی کہ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پر ہونی چاہئیے۔نیز ضروری ہے کہ غلبہ دین کے زمانہ کو قریب تر لانے کے لئے ہم انتہائی قربانی کریں اور ہماری زندگیاں اسلام کے عملی نمونہ کی مظہر ہوں۔چنانچہ افتتاح کے موقع پر حضور نے خدام سے خطاب میں فرمایا کہ کچھ عرصہ قبل میں نے یورپ کا دورہ اس غرض سے کیا تھا تا کہ مغربی اقوام کو جو اپنے رب کو بھلا چکی ہیں یہ بتا سکوں کہ اپنے رب کی طرف جھکو اور اس کی خشیت اپنے اندر پیدا کرو۔الہی بشارتوں اور الہی اذن سے یہ سفر اختیار کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ ان اقوام کی توجہ میرے پیغام کو سننے اور سمجھنے کی طرف پھیر دی۔چنانچہ کروڑوں انسانوں نے اخبارات کے ذریعہ اور کروڑوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ اس پیغام کو سنا اور اسے سمجھنے کی کوشش کی۔جس کثرت سے اس کی اشاعت ہوئی اس کا ہمیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔حضور نے فرمایا اس وقت میں جس امر کی طرف اپنے عزیزوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب ہم دنیا کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف توجہ کرو تو خود ہمارے لئے کتنا ضروری ہو جاتا ہے کہ پہلے ہم اپنے نفسوں کو دیکھیں اور ٹولیں کہ کیا ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت اس حد تک ہے جس حد تک ہونی چاہئیے۔حضور نے خشیت الہی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا اگر کوئی شخص کہے کہ میں سوائے خدا کے اور کسی سے نہیں ڈرتا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تمام قسم کی پابندیوں اور ذمہ داریوں سے آزاد ہو گیا ہے۔نہ والدین کی اطاعت فرض رہی ہے اور نہ بھائیوں کا احترام بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ہزاروں بندشوں میں جکڑ لیا ہے۔اور وہ ان تمام باتوں پر عمل کرتا ہے جنہیں اختیار کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔آخر میں حضور نے فرمایا پس اے میرے پیارے عزیز و اور بچواللہ تعالیٰ کی خشیت صحیح معنوں میں اپنے اندر پیدا کرو تا کہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا آپ کے لئے آسان ہو جائے اور پھر اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے اتنے فضل نازل فرمائے کہ آپ کی نسلیں بھی انہیں نہ گن سکیں۔مورخه ۲۲ اکتوبر کو حضور انور نے اپنے اختتامی خطاب میں اولاً اس امر پر خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ امسال اجتماع میں شامل ہونے والی مجالس کی تعداد میں گذشتہ سال کی نسبت نمایاں اضافہ ہوا ہے۔لیکن حضور نے فرمایا میرے نزدیک یہ اضافہ تسلی بخش نہیں ہے۔میرے نزدیک اس اجتماع میں ملک کی ہر مجلس کا کم از کم ایک نمائندہ ضرور موجود ہونا چاہئیے۔حضور نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ