تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 246 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 246

تاریخ احمدیت۔جلد 24 246 سال 1967ء اور نصائح میں صرف ہوتا رہا۔یہاں کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے روزنامہ TORONTO STAR کے مذاہب کے کالم نویس کو بھی آپ نے ملاقات کا موقع دیا۔جو ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔یہ شخص بڑا ذہین اور دیگر ادیان سے بھی خاصی واقفیت رکھتا تھا۔اسے اسلام کا لٹریچر پہلے بھی دیا جا چکا تھا۔اس ملاقات کے بعد اس نے ۲۸ اکتوبر ۱۹۶۷ء کو ایک شذرہ سپر قلم کیا۔دورانِ قیام آپ کی ایک گفتگوئی وی سے متعلق ایک صاحب لٹر گارڈن نیلر سے ہوئی۔جو ٹیلی کاسٹ بھی کی گئی۔حضرت چوہدری صاحب کے اور بھی کئی انٹرویور یڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہوئے۔علاوہ ازیں آپ کی نسبت مانٹریال کے پریس نے بھی نوٹ لکھے۔189 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی دوسری کل پاکستان اردو کا نفرنس مرکز احمدیت ربوہ نہایت تیزی کے ساتھ زبانِ اردو کی اشاعت کا بھی مرکز بن رہا تھا اور پاکستان بھر کے دانشور، ادباء اور شعراء کی نگاہیں خاص طور پر اس سرزمین کی طرف لگی ہوئیں تھیں اور افق پر اردو کا مستقبل نہایت روشن اور درخشاں نظر آنے لگا۔جس کا ایک واضح اور عملی ثبوت تعلیم الاسلام کالج کی دوسری کل پاکستان اردو کا نفرنس نے مہیا کیا۔جو ۱۵،۱۴ راکتو بر ۱۹۶۷ء کو نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔جس میں ملک کے طول وعرض سے یونیورسٹیوں کے پروفیسرز ، نامور ادیبوں اور شاعروں نے شرکت فرمائی۔اس کانفرنس کے لئے جناب جسٹس اے آر کار نیلٹس چیف جسٹس آف پاکستان، جناب اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو پاکستان، جناب ممتاز حسین صاحب سابق مینجنگ ڈائر یکٹر نیشنل بنک آف پاکستان، جناب پروفیسر حمید اللہ خان صاحب وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے اپنے خصوصی پیغامات ارسال فرمائے۔جو جناب پرویز پروازی صاحب معتمد مجلس استقبالیہ نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں پڑھ کر سنائے۔پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے کینٹ پر نسل تعلیم الاسلام کالج نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں اس امر کو واضح کیا کہ تعلیم الاسلام کالج میں اردو کا نفرنس اس لئے منعقد کی جارہی ہے کہ ہمیں اردو کے ساتھ بڑی محبت ہے اور ہم اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لئے اور اعلیٰ تعلیم کے ماحول کو اردو کا رنگ دینے کے لئے سنجیدگی سے کوشش کر رہے ہیں اور یقین دلایا کہ ملک میں اردو کے فروغ کے لئے جو