تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 245
تاریخ احمدیت۔جلد 24 245 سال 1967ء جاری رہا اور اس میں بہت سے بین الاقوامی شہرت کے حامل مقررین شامل ہوئے۔آپ کا قیام ٹورانٹو یونیورسٹی کے زیر انتظام تھا۔ٹورانٹو میں پاکستان سٹوڈنٹس یونین، مسلم سٹوڈنٹس یونین اور انٹر نیشنل سٹوڈنٹس سنٹر کی تین مختلف تنظیمات تھیں۔چوہدری صاحب کی آمد کی اطلاع پر انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ کے لیکچروں کا انتظام کیا جائے۔ہر چند کہ آپ TEACH-IN کے پروگرام میں بہت مصروف تھے پھر بھی آپ نے وقت نکالا اور ایک لیکچر پاکستان سٹوڈنٹس یونین کے زیر اہتمام اقوام متحدہ اور پاکستان“ کے عنوان پر دیا۔حاضری بہت تھی۔تقریر کے بعد بہت سے سوالات کئے گئے۔جن کے آپ نے تسلی بخش جوابات دیئے۔دوسری تقریر ۱۹ اکتوبر کو امن عالم دوراہے پر“ کے عنوان کے ماتحت کی۔جس کا مسلم سٹوڈنٹس یونین اور جماعت احمد یہ ٹورانٹو نے مل کر انتظام کیا۔حاضری پہلے سے بھی زیادہ تھی۔سوا گھنٹہ کی تقریر کے بعد بہت سے سوالات کئے گئے۔آپ نے قرآن کریم کی سورہ معارج میں جو آخری زمانہ میں ایٹم اور ہائیڈ روجن بم اور کو بالٹ کی تباہی کا نقشہ کھینچا گیا ہے، اسے وضاحت سے بیان کیا اور قرآن کریم کی آخری تین سورتوں میں ان ایجادات کے فوائد کی طرف جو توجہ دلائی گئی ہے اور تباہی سے بچنے کی جود عا سکھائی گئی ہے، اسے بیان کیا۔اور اس طرح وہ انذار جوسید نا حضرت خلیفۃ اسح الثالث نے براعظم یورپ کا کیا، اس کو یہاں بھی آپ نے دہرایا۔حضرت چوہدری صاحب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا وہ پیغام بعنوان امن کا پیغام اور ایک حرف اختباہ جو انگلینڈ سے چھپا، ساتھ ہی لے کر گئے تھے، جو تقسیم کیا گیا۔محترم چوہدری صاحب نے ہر تقریر میں یہ واضح کیا کہ وہ مسلمان ہیں اس لئے تمام سچائیوں کا منبع ان کے لئے قرآن کریم ہے اسی لئے وہ اپنی ہر بات قرآن کریم سے پیش کریں گے۔اس طرح آپ نے قرآن کریم کثرت سے پیش کیا۔حضرت چوہدری صاحب TEACH-IN کے سارے پروگرام میں شامل ہوتے رہے۔اور آپ کی موجودگی سے اسلامی نقطہ نگاہ کی حفاظت ہوتی رہی۔جہاں کہیں کسی امر کا اسلام کی طرف سے جواب ضروری ہوتا۔آپ اس امر کی وضاحت فرماتے رہے۔بعض مقررین پر تو آپ کی موجودگی کا بہت ہی اچھا اثر پڑتا رہا۔اور کوئی بھی مقرر اسلام کے خلاف کوئی بات نہ کہہ سکا۔آپ کے جوابات فکر انگیز اور خیال پرور ہوتے تھے۔ان تقاریر کے علاوہ آپ نے ملاقات کے مواقع بھی دئے۔اور ان مواقع پر بھی آپ کا وقت تبلیغ حق