تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 247 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 247

تاریخ احمدیت۔جلد 24 247 سال 1967ء کوششیں بھی بروئے کار لائی جائیں گی ہم ان میں پیش پیش ہوں گے۔جناب ڈاکٹر اشتیاق حسین صاحب قریشی وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اس امر پر تاسف کا اظہار کیا کہ ہم لوگ احساس کمتری کے ماتحت اردو کے ساتھ بیگانگی کا سلوک کر رہے ہیں۔اور اسی بیگانگی نے ہماری تعلیم کو بے منہاج ، بے مقصد، بے اثر اور بے نتیجہ بنا دیا ہے۔آپ نے اعلیٰ سے اعلیٰ معیار تک اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا جب تک اعلیٰ سے اعلیٰ معیار تک قومی زبان کے ذریعہ تعلیم نہ ہوگی۔اس وقت تک ہمارا شمار علمی حیثیت سے کبھی صفحہ اول کی اقوام میں نہیں ہو سکے گا۔ڈاکٹر صاحب موصوف نے خبر دار کیا کہ اگر ہم نے اپنی قومی زبان کے سلسلہ میں اپنے احساس کمتری کو فوری طور پر دور نہ کیا تو یہ احساس کمتری ہمارے عقائد کو برباد کر دے گا۔ہمارے دین سے ہمارا علاقہ تو ڑ دے گا اور ہمیں اسلام کی نعمت سے محروم کر دے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔اور اپنی چیزوں سے محبت کرنا سیکھیں۔اس کا نفرنس کے ۹ / اجلاس ہوئے۔مغربی پاکستان کی تین یونیورسٹیوں اور متعد د تعلیمی اداروں اور ادبی تنظیموں کے ۸۴ خصوصی مندوبین نے شرکت کی۔کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب کے علاوہ زرعی یونیورسٹی لائکپور کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر ظفر علی ہاشمی صاحب بھی کا نفرنس میں شریک ہوئے اور آپ نے سائنسی تدریس کے مذاکرہ کی صدارت فرمائی۔یو نیورسٹی مندوبین میں میجر آفتاب حسن صاحب ( کراچی یونیورسٹی ) ، پروفیسر سید وقار عظیم، ڈاکٹر سید نذیر احمد اور ڈاکٹر محمد عبد العظیم ( پنجاب یونیورسٹی ) جیسے نامور اہلِ علم شامل تھے۔گورنمنٹ کالج لاہور، گورنمنٹ کالج سرگودھا، گورنمنٹ کالج لائکپور، گورنمنٹ کالج جھنگ، گورنمنٹ کالج راولپنڈی اور یو نیورسٹی اور پینٹل کالج لاہور نے اپنے خصوصی مندوبین شرکت کے لئے بھجوائے۔ان تعلیمی اداروں کے علاوہ انجمن ترقی اردولائکپور، بزم ترقی ادب ملتان اور بزم فکر ونظر گجرات کے مندوب بھی شریک ہوئے۔اس کانفرنس کی افادیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جناب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی صاحب کا نفرنس کے ایام میں ربوہ میں ہی قیام فرمار ہے۔اور اکثر اجلاسوں میں شرکت فرماتے رہے۔اس دوروزہ کانفرنس میں زبان، ادب، صحافت اور تدریس کے پچاس موضوعات پر نہایت اعلیٰ پایہ کے ۴۳ مقالے پڑھے گئے اور باقی سات مقالے اشاعت کے لئے پیش کئے گئے۔کانفرنس میں