تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 219
تاریخ احمدیت۔جلد 24 219 سال 1967ء حضور نے مزید فرمایا کہ میرے ڈنمارک کے قیام کے دوران ایک خاتون طالب علم سویڈن سے ڈنمارک اسلام کے متعلق گفتگو کرنے آئی۔اس نے ہمارے مبلغ سے تبادلہ خیالات کیا اور مجھ سے بھی ملنے کی اجازت طلب کی میں نے اسے گفتگو کا موقع دیا تو اس لڑکی نے سوال کیا کہ اسلام اور احمدیت ایک ہی ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے۔میں نے جواب دیا کہ ” میرے نزدیک تو یہ دونوں ایک ہی ہیں “ یہ سن کر اس نے کہا کہ پھر میری بیعت اسی وقت لے لیں۔‘“ ایک طالبہ کا دین کے معاملہ میں یہ ذوق و شوق خدائی تصرف تھا اور فرشتے نے اسے کہا کہ اٹھ اور ڈنمارک میں جا کر اسلام قبول کر“۔اس واقعہ میں آپ طالبات کے لئے بھی ایک سبق ہے۔لہذا آپ سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔مسلمان بچیاں خواہ وہ کالج میں ہوں یا اسکول میں ایک چیز مشترکہ طور پر ان کے مدنظر رہنی چاہئیے کہ ہم نے ایک مسلمان خاتون کی زندگی گزارنی ہے۔اگر دنیا دھتکار بھی دے تو آپ کو اس بات پر خوش ہونا چاہئیے کہ خدا نے آپ کو قبول کر لیا ہے۔لہذا آپ ایک احمدی بچی کی زندگی گزار ہیں۔اس کے بغیر ہم ان عظیم الشان بشارتوں کے وارث نہیں ہو سکتے جو ہمارے تصور سے بھی بالا ہیں اور جن کا وعدہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ذریعہ سے کیا گیا۔اساتذہ جامعہ نصرت کو بھی میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسی مقصد کو اپنے سامنے رکھیں کہ وہ بچوں کی سیچ رنگ میں تربیت کریں گی اور دین کی بچی روح ان میں پھونک دیں گی تاوہ اسلام اور احمدیت کی فدائی بن سکیں۔اللھم آمین۔اس کے بعد حضور نے دعا کروائی اور تقریب اختتام پذیر ہوئی۔1 مرکزی تنظیموں کی طرف سے خصوصی استقبالیہ تقریب اور حضور انور کا اہم خطاب ۳۰ اکتوبر ۱۹۶۷ء کو بعد نماز عشاء حضرت خلیفۃالمسیح الثالث کی سفر یورپ سے، جو خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی الہی تائیدات و برکات سے معمور تھا ، کامیاب مراجعت پر جماعت احمدیہ کی مرکزی تنظیموں یعنی صدر انجمن احمدیہ تحریک جدید، وقف جدید انجمن احمدیہ، مجلس انصاراللہ مرکز یہ اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے مشترکہ طور پر ساتویں استقبالیہ تقریب حضور کے اعزاز میں دفاتر صدرانجمن احمدیہ کے کھلے اور وسیع میدان میں منعقد ہوئی۔یہ تقریب کئی لحاظ سے ایک منفرد اور جماعت کی تاریخ میں ایک یاد گار تقریب تھی۔اس میں ربوہ کے رہنے والے تمام خدام وانصار بطور میزبان شریک ہوئے۔ہر محلے کے دس دس اطفال بھی شریک