تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 220
تاریخ احمدیت۔جلد 24 220 سال 1967ء ہوئے۔مغربی پاکستان کی احمدی جماعتوں کے ڈویژنل اور ضلعی امراء بھی اس میں شریک ہوئے۔مشرقی پاکستان کی جماعتوں کی طرف سے وہاں کے صوبائی امیر جناب مولوی محمد صاحب اور جنرل سیکرٹری مشمس الرحمن صاحب بیرسٹر نے بھی اس میں شرکت فرمائی۔قائدین اضلاع خدام الاحمدیہ، زعماء اعلیٰ اضلاع انصار اللہ بھی مدعو تھے۔غرض یہ تقریب مغربی اور مشرقی پاکستان کے تمام احمدیوں کی نمائندہ تقریب تھی۔جس میدان میں یہ تقریب منعقد ہوئی اسے خوبصورت قناتوں ، دروازوں ،جھنڈیوں، رنگارنگ کے برقی قمقموں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلبہ اسلام کے متعلق الہامات پر مشتمل قطعات سے نہایت سلیقہ کے ساتھ آراستہ کیا گیا تھا۔جو کارکنان کے حسن انتظام کا ثبوت تھا۔جملہ میز بانوں کے لئے جو ہزارہا کی تعداد میں موجود تھے۔حضور انور کی نشست کا ، جو اس تقریب میں بطور مقدس مہمان کے تشریف لا رہے تھے۔ایسے طور پر انتظام کیا گیا تھا کہ جملہ حاضرین حضور کی زیارت کا شرف حاصل کر سکیں سٹیج پر صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، مرکزی انجمنوں کے سر براہ اور علاقائی امراء بھی تشریف فرما تھے۔پونے آٹھ بجے شب حضرت خلیفہ مسیح الثالث اس تقریب میں شمولیت کے لئے تشریف لائے۔جملہ حاضرین نے کھڑے ہو کر اللہ اکبر، حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ باد، اسلام زندہ باد، حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ باد اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث زندہ باد کے نعروں کے ساتھ حضور کا خیر مقدم کیا۔سٹیج پر رونق افروز ہونے کے بعد کا رروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔جو کہ مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب سابق مجاهد افریقہ و ماریشس نے کی۔اس کے بعد الحاج چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت نواب مبار کہ صاحبہ کی وہ نظم خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنائی جو حضرت سیدہ مدوحہ نے حضور کے سفر یورپ کے سلسلے میں کہی تھی۔تلاوت و نظم کے بعد سید داؤ داحمد صاحب ناظر خدمت درویشاں نے قادیان اور ہندوستان کی دیگر احمدی جماعتوں کا ارسال کردہ سپاسنامہ پڑھ کے سنایا۔جس میں انہوں نے حضور انور کی خدمت میں سفر یورپ سے کامیاب مراجعت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے دلی جذبات محبت و عقیدت کا اظہار کیا گیا تھا۔اس کے بعد خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب نے مرکز سلسلہ پاکستانی تنظیموں یعنی صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید انجمن