تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 218
تاریخ احمدیت۔جلد 24 218 سال 1967ء ہیں یا دنیا کی لذت کے لئے بے چین ہیں۔اگر ہم دنیا کو دین پر مقدم کرنے والے ہوں گے تو وہ لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آپ ہمارے دلوں کو کیسے خدا تعالیٰ کے قدموں میں رکھیں گے جبکہ اپنے دلوں پر آپ کو قدرت حاصل نہیں ہے اور وہ آپ کے قابو میں نہیں ہیں۔“ حضور نے فرمایا احمدی مستورات نے کوپن ہیگن کی مسجد کے علاوہ بھی اپنے چندوں سے یورپ میں دیگر مساجد بنوائی ہیں لیکن جو نظارہ مسجد نصرت جہاں کے افتتاح کے وقت دیکھنے میں آیا اس کا الفاظ میں بیان کرنا محال ہے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہاں سبھی لوگ مسحور ہو گئے ہیں۔چنانچہ ڈنمارک کے چرچ بلیٹن نے ایک نوٹ لکھا کہ ڈنمارک کے لوگوں کے عقائد اسلام سے اس طرح ملے ہیں جس طرح پانی کے دو قطرے“۔اس بلیٹن کے اس نوٹ کے انداز تحریر سے عیاں ہوتا ہے کہ عیسائی دنیا میں اس بات سے بہت گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے کہ ایسے لوگ جو بظاہر تو عیسائی ہیں مگر عقیدہ مسلمان ہیں۔اب عملاً اسلام میں داخل نہ ہو جائیں اور عیسائیت کو شکست نہ ہو۔جو کچھ میں نے وہاں محسوس کیا اسی کی بناء پر میں نے آپ لوگوں کو مبارک باد دی تھی کہ احمدی مستورات کی کوشش نے مقبولیت کا شرف حاصل کر لیا ہے۔اگر ہم نے اپنی عظیم ذمہ داری کو سمجھ لیا تو انشاء اللہ ان فضلوں کے وارث ہوں گے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مسیح پاک علیہ السلام سے کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کے مردوں اور عورتوں کو بڑی بشارتیں دی ہیں۔علاوہ ازیں ہمارا یہ ایمان بھی ہے کہ موت کے ساتھ ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ موت سے ایک نئی زندگی کی ابتداء ہوتی ہے۔اگر کوئی آخری زندگی میں نعمتوں کا خواہشمند ہے تو اسے اس دنیا میں بھی خدا کی رضا کی جنت حاصل کرنے کی سعی کرنی ہوگی۔اور یہ ہم سب کا ذاتی فرض ہے کیونکہ کوئی دوسرا ہمیں پکڑ کر اس جنت میں داخل کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے بھی تمثیلی رنگ میں فرمایا تھا اگر میرے ساتھ چلنا ہے تو اپنی صلیب خود اٹھاؤ۔دنیائے عیسائیت نے اس تمثیل کو سمجھا نہیں اور غلط عقیدہ پر قائم ہو گئے لیکن ہمارا عقیدہ تو یہ ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میری بعثت کی غرض یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑ دوں جس نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی ہڈیوں کو توڑا اور جسم کو زخمی کیا تھا۔سو واضح ہو کہ اگر ہم نے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنی ہے اور شیطانی ظلمتوں سے نجات حاصل کرنی ہے تو ہمیں ایسا مجاہدہ کرنا ہے جو ہمیں نور کی فضا میں لے جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں پہنچا دے۔