تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 199 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 199

تاریخ احمدیت۔جلد 24 199 سال 1967ء الثالث نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ یہ سفر یورپ میں نے ایک اہم مقصد کی خاطر اختیار کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے بہت دعائیں کرنے کی توفیق دی اور افراد جماعت نے بھی بہت دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو سنا اور قبول فرمایا اور ایسے سامان پیدا فرمائے کہ ان ملکوں میں قریبا ہر گھر میں اللہ تعالیٰ کا پیغام اور دعوت توحید پہنچ گئی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان ملکوں کے رہنے والوں کو خلیفہ وقت اور امام وقت کا چہرہ دکھایا۔اور ان پر ایک خاص اثر پڑتا تھا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل تھا کہ خلیفہ وقت کے چہرہ کو دیکھ کر وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے آپ لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔خلافت راشدہ الہی سلسلہ کے لئے بہت بڑی برکت ہے۔یہ نبوت کی شمع کو روشن رکھتی اور اس کی روشنی کو دنیا میں پھیلاتی ہے اور خلافت راشدہ جو کچھ پاتی ہے خدا سے ہی پاتی ہے۔خلیفہ وقت میں شجاعت خدا کی طرف سے پیدا ہوتی ہے وہ اسکی طرف جھک کر وہ کچھ پاتا ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔خدا کی تقدیر خاص کے انتظام سے یورپ کے ملکوں بلکہ ساری دنیا کے بسنے والوں کے کانوں تک اسلام کا پیغام پہنچا دیا۔پھر فرمایا کہ میں نے لندن میں اپنا جو مضمون پڑھا تھا۔ڈاکٹر عبدالسلام نے کسی سے کہا کہ حضور نے زبر دست انذار اور تنبیہ بغیر الفاظ یا لہجہ کی سختی کے بڑے پیار کے ساتھ فرمائی۔فرمایا میں نے انہیں چاند سورج گرہن کی پیشگوئی بتائی کہ کئی مہدی پیدا ہوئے ، دعویٰ کیا۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق بچے مہدی کی صداقت کے لئے اس کے دعوی کے چار سال بعد ایک سال مشرقی حصہ دنیا اور اگلے سال مغربی دنیا امریکہ وغیرہ میں یہ نشان پورا ہوا عظیم تھا وہ شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس نے پیشگوئی کی اور عظیم تھا آپ کا وہ خادم جس کے حق میں یہ پوری ہوئی۔حضور انور نے فرمایا کہ میں نے انہیں بتایا کہ روس کے متعلق تین انہونی باتیں کہی گئیں۔۱۔زار کی تباہی۔۲۔کمیونزم کی تباہی ۳۔رشیا میں اسلام کا پھیل جانا۔اور یہ باتیں اس وقت کی گئیں جب یہ انہونی تھیں۔ان میں سے دو ہو چکی ہیں اب تیسری بھی پوری ہوگی۔انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔خطاب کے آخر میں حضور انور نے فرمایا کہ انصار پر پہلے بھی بڑی ذمہ داریاں تھیں۔اب جو حالات نظر آرہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ اس ذمہ داری کو سب انصار نبھائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رب البیت پر عائد کی ہے۔ہر شخص راعی ہے بزرگوں کے بعد