تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 200 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 200

تاریخ احمدیت۔جلد 24 200 سال 1967ء نوجوان سر براہ خاندان بن جاتے ہیں مگر جو احمدی انصار اللہ میں شامل ہیں وہی گھرانوں کے راعی ہیں۔تم اب گھروں کو صاف کرو اور سارے گند گھروں کے باہر نکال دو۔کیونکہ خدا کی تقدیر ہے کہ وہ ان گھروں میں فرشتوں کے ڈیرے ڈالے گا۔اور پھر وہاں سے اشاعت اسلام اور فتح اسلام کی مہم کو پہلے سے بہت زیادہ تیز کرے گا۔گھر کی ظاہری صفائی کی بھی اسلام نے تعلیم دی ہے لیکن اصل چیز دلوں کی صفائی ہے۔اپنی بیویوں بچوں کے دلوں کو صاف کرو۔اگر گھر میں کوئی عزیز رہتا ہو یا نوکر ہوں تو ان کے دلوں کی بھی صفائی کرو اور نیک دل اور نیک ارادہ انسان بن کر اللہ تعالیٰ کے حکموں کو اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد حضور انور نے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔یورپ میں زبر دست خلا اور جماعت احمدیہ کا فرض حضرت خلیفہ امسح الثالث نے ۸ تمبر ۱۹۶۷ء کے خطبہ جمعہ میں دنیا بھر کے احمدیوں کو اس طرف متوجہ فرمایا کہ یورپ میں ایک خلا پیدا ہو چکا ہے اور اس کو پر کرنے کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے اور اس کو نباہنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہم خود معرفت اور عرفان کے بلند مقام پر قائم ہوں اور ساری دنیا کی جماعت ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہو جائے۔آسمان پر سے فرشتے نازل ہو چکے۔اور انہوں نے عیسائیت کو یورپ اور امریکہ کے ملکوں سے مٹادیا۔اب ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی انتہائی کوشش کر کے خدائے واحد کے جھنڈے ان ملکوں میں گاڑ دیں۔حضور نے فرمایا: یہ ضروری ہے کہ بتوں کی محبت کی جگہ خدا تعالیٰ کی محبت قائم ہو اور یہ سوائے اسلام کے نہیں ہو سکتا اور یہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جماعت کے قیام کی غرض ہی یہ ہے کہ گمشدہ معرفت کو دنیا میں پھر سے قائم کیا جائے۔155 حضور انور کا مجلس خدام الاحمد سید یوہ کی استقبالیہ تقریب سے ایمان افروز خطاب حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے اعزاز میں تیسری استقبالیہ تقریب ۸ تقبر ۱۹۶۷ء کو جلس خدام