تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 170 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 170

تاریخ احمدیت۔جلد 24 170 سال 1967ء ہو جاتے تھے اور آپس میں سرگوشیاں بھی کرتے تھے کہ یہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہیں۔دوسری پریس کا نفرنسوں کی طرح یہ کانفرنس بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تائید اور محبت کی ایک زندہ مثال تھی۔پریس کے نامہ نگار یورپ کے ذہین ترین اور ہوشیار ترین دماغ سمجھے جاتے ہیں۔ان کا سامنا کرتے ہوئے بڑے بڑوں کا زہرہ آب ہوتا ہے۔عموماً پریس کانفرنسوں میں بڑے بڑے لسان لوگ تحریری بیان پڑھ دیتے ہیں۔یہ کانفرنس ایک بہت بڑے ہوٹل میں ہوئی۔کانفرنس سے قبل اپنوں بیگانوں سبھوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ یورپ، انگلستان سب جگہ پریس پر یہودی چھائے ہوئے ہیں اور اسلام دشمنی اور عرب اسرائیل جنگ کے باعث جذبات بہت برافروختہ ہیں۔مسلمانوں پر اکا دُکا حملوں کی وارداتیں بھی ہو چکی ہیں اس لئے خطرہ ہے کہ اخباری نمائندے اوّل تو پریس کانفرنس کے موقع پر ہی کوئی شرارت کریں گے ورنہ رپورٹنگ کے وقت ضرور اسلام کے خلاف زہر فشانی کریں گے۔عموماً ایسے موقعوں پر سات آٹھ نمائندے آیا کرتے ہیں اور دس پندرہ منٹ کے لئے کانفرنس ہوتی ہے اور کانفرنس کے دوران پر یس کے نامہ نگار آتے جاتے رہتے ہیں۔جب حضور کا نفرنس روم میں پہنچے تو اُس وقت پینتیس نمائندگان پریس، ریڈیو، نیوز ایجنسیز وغیرہ موجود تھے اور کمرہ بھرا ہوا تھا۔سب کے سب تیز طرار اور چالاک۔ان میں تین خواتین بھی تھیں۔بعد میں کچھ اور بھی آگئیں۔پہلے تو حضور نے باری باری سب مردوں سے مصافحہ فرمایا۔عورتوں کو حضور کے حسب ارشاد پہلے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ حضور اسلامی تعلیم کے مطابق نامحرم عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتے۔مصافحہ ختم ہوتے ہی ایک نامہ نگار کھڑا ہوگیا اور بڑے زناٹے سے سوال کیا کہ یور ہولی نس! آپ نے ہمارے شہر اور قوم کی عزت افزائی فرمائی ہے کہ یہاں تشریف لائے ہیں۔یہ مزید عزت افزائی فرمائی کہ ہمیں ملنے کا موقع دیا اور اس کی عزت افزائی یہ فرمائی کہ ہم سب کو مصافحے کا شرف بخشا لیکن مجھے غلطی لگی ہے۔آپ نے سب سے مصافحہ نہیں فرمایا عورتوں کو اس شرف سے محروم رکھا۔کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ کیوں ؟“ سوال کے ختم ہوتے ہی نہایت دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ نہایت شیریں آواز میں حضور نے فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ نہیں میں نے آپ ہی کی نہیں عورتوں کی بھی عزت کی ہے۔اسلام عورتوں کی عزت سکھاتا ہے۔بلکہ اسلام ہی نے عورتوں کی صحیح عزت قائم کی ہے۔آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ میں نے مصافحہ نہ کر کے ان کی عزت نہیں کی۔میرے نزدیک ہماری روایت اور اسلامی تعلیم کی روشنی میں