تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 171
تاریخ احمدیت۔جلد 24 171 سال 1967ء عورت کی عزت یہی ہے کہ نامحرم اس سے ہاتھ نہ ملا ئیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے مستورات کی اپنے طریق پر عزت افزائی کی ہے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ عزت افزائی نہیں کی۔“ 66 اس جواب کے بعد دس پندرہ منٹ نہیں پورے ڈیڑھ گھنٹہ تک یہ کانفرنس جاری رہی ، اور سوال پر سوال ہوئے لیکن ہر سوال میں حضور کا احترام اور تکریم ملحوظ خاطر رہی۔نامہ نگاروں پر ایک رعب طاری ہوا اور وہ بچوں کی طرح حضور کی خدمت میں ادب سے سوال کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے حضور کی زبانِ مبارک پر ایسے ایسے الفاظ جاری فرمائے کہ غم اور تشویش اور گھبراہٹ جاتی رہی اور اس کی جگہ خوشی اور اللہ تعالیٰ کی حمد نے لے لی۔آخر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد حضور نے کانفرنس کو دیگر مصروفیات کے باعث ختم فرمایا۔لیکن بعض نامہ نگار پھر بھی ٹھہرے رہے۔اگلے روز سارے اخبارات میں اسلام اور احمدیت کا شہ سرخیوں (Banner Headlines) کے ساتھ خوب خوب چرچا ہوا۔اور دیانت داری سے رپورٹنگ کی گئی۔پھر ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ہیگ میں حضور سے سوال ہوا کہ آپ نے کتنے احمدی مسلمان یورپ میں پیدا کئے ہیں؟ حضور نے فرمایا جتنے مسیح علیہ السلام نے اپنی زندگی کے دوران ( جو آپ لوگوں کے نزدیک اُن کی زندگی تھی ) پیدا کئے تھے اُن سے زیادہ۔سوال کرنے والا مبہوت ہو کر رہ گیا۔ایک کانفرنس میں سوال ہوا آپ اسلام کیسے پھیلائیں گے؟ حضور نے فرمایا کہ دلوں کو فتح کر کے۔پھر اس جواب پر سوال ہوا کہ آپ دلوں کو کیا کریں گے؟ حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قدموں میں ڈال دیں گے۔سوال ہوا کہ آپ کیسے کہتے ہیں کہ انگلستان میں لوگوں کا مذہب سے تعلق ختم ہورہا ہے؟ فرمایا کہ پہلے گر جا گھر بکا نہیں کرتے تھے اب پک رہے ہیں۔اور ان پر For Sale “ کے نوٹس لگے ہوئے ہیں۔66 ایک سوال ہوا کہ آپ کا سکاٹ لینڈ کی آزادی کے متعلق کیا خیال ہے؟ حضور نے فرمایا I think اور قدرے توقف فرمایا۔اور فرمایshould not think for you یعنی میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں آپ کی جگہ مجھے نہیں سوچنا چاہیئے۔اس پر سب حاضرین بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑے او ر نامہ نگار کھسیانا سا ہو گیا۔لیکن حضور کسی کی زبان بند کرنے کے لئے جواب نہیں دیا