تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 169 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 169

تاریخ احمدیت۔جلد 24 169 سال 1967ء احمد صاحب، (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ، میاں غلام محمد صاحب اختر نیز وہ امرائے اضلاع جو حضور کے استقبال کے لئے کراچی گئے تھے اور جن میں خان شمس الدین خان صاحب امیر جماعت احمدیہ پشاور بھی شامل تھے، اسی گاڑی سے ربوہ واپس آئے۔رات کو دیر تک ربوہ کے گلی کوچوں، بازاروں اور علی الخصوص گولبازار میں رونق رہی قریباً سارا شہر چراغاں کی روشنی سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔یوں تو محلوں کی گلیوں اور سٹرکوں پر بجلی کی روشنی کا اہتمام تھا اور بہت سے احباب نے اپنے گھروں کی چھتوں پر بھی دیئے جلا کر چراغاں کیا تھا۔لیکن دفاتر تحریک جدید ، جامعه احمدیه، ایوان محمود، مسجد مبارک، دفتر فضل عمر فاؤنڈیشن، دفاتر صدرانجمن، وقف جدید، ہال لجنہ اماءاللہ مرکز یہ نصرت گرلز کالج اور ہائی سکول اور ان میں سے بھی علی الخصوص دفاتر تحریک جدید ، جامعہ احمدیہ، ایوان محمود اور گولبازار کی روشنی کی بات ہی کچھ اور تھی۔مزید برآں ربوہ کی ملحقہ پہاڑیوں کی چوٹیوں پر آگ جلا کر بلندی پر بھی روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔یہ آگ رات کو دیر تک روشن رہی اور چراغاں کے منظر کی دلکشی کو دوبالا کرتی رہی۔احباب اور بچے دیر تک شہر کے مختلف حصوں میں ، جہاں روشنی کا خصوصی انتظام تھا، گھوم پھر کر چراغاں کا لطف اُٹھاتے رہے۔سب بہت خوش تھے اور خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔سفر یورپ کے متعلق بعض احباب کے تاثرات (۱) پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے کو اس تاریخی سفر میں پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے حضور کے ہمراہ جانے اور خدمت بجالانے کا خصوصی شرف حاصل ہوا تھا۔آپ نے اس دورے میں نازل ہونے والے پیہم افضال الہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی جیسے سارے یورپ میں ایک زلزلہ آ گیا ہو۔نہ صرف اخبارات، ریڈیو، ٹیلیویژن وغیرہ نے نمایاں جگہ بلکہ عزت اور ادب کے مقام پر جگہ دی بلکہ پڑھنے اور سننے والوں نے جو وہاں کی ہما ہمی میں تو قف اور رکنے کے عادی نہیں ہیں حضور کے ارشادات کو غور سے سنا اور یا درکھا۔چنانچہ مثال کے طور پر ہمبرگ میں حضور کا انٹرویو ہوا اور ٹیلیویژن پر حضور کا ارشاد نشر ہوا اور اگلے روز یہ کیفیت تھی کہ جدھر حضور تشریف لے جاتے تھے لوگ ادب اور حیرت سے دور و یہ کھڑے