تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 168
تاریخ احمدیت۔جلد 24 168 سال 1967ء تھے۔حضور ان سب کے نعروں اور سلام کا جواب دیتے ہوئے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے احاطہ میں پہنچے۔وہاں جو نہی حضور موٹر کار سے اُترے۔سردار مقبول احمد صاحب ذبیح مهتم مقامی مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ اور خواجہ عبدالمومن صاحب ناظم اطفال مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ ( حال مقیم ناروے) نے حضور کی خدمت میں دو اطفال لئیق احمد صاحب عابد۔دارالرحمت شرقی ب ( حال وکیل صنعت و تجارت تحریک جدید ) اور عبدالخالق صاحب بنگالی دار الصدر غربی الف پیش کئے۔جنہیں کارکردگی کے لحاظ سے نمایاں طور پر ہونہار طفل قرار دیا گیا تھا۔ان دونوں اطفال نے حضور کی خدمت میں پھولوں کے دو خوشنما گلدستے پیش کئے ان گلدستوں پر یہ شعر لکھا ہوا تھا فرمایا۔مبارک صد مبارک میرے آقا سفر یورپ ہو خدا نے کامیابی سے نوازا ہے مبارک ہو حضور نے از راہ شفقت یہ گلدستے قبول فرماتے ہوئے ان دونوں اطفال کو مصافحہ کا شرف عطا دریں اثناء احباب شہر میں سے سمٹ کر مسجد مبارک میں آجمع ہوئے تھے۔چنانچہ حضور موٹر سے اُترنے کے بعد قصر خلافت کے اندر تشریف لے جانے کی بجائے صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور بعض دیگر احباب کی معیت میں سیدھے مسجد مبارک تشریف لے گئے۔اور وہاں مغرب کی نماز پڑھائی۔چنانچہ حضور کے ربوہ پہنچنے کے معابعد ہزاروں احباب کو حضور کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کی سعادت میسر آئی۔اسی شام دارالضیافت کی طرف سے مستحقین میں خاص کھانا تقسیم کیا گیا۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے سب احباب کو بآواز بلند السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہا اور پھر حضور قصرِ خلافت کے اندر تشریف لے گئے۔جس کے بعد احباب اللہ کا شکر ادا کرتے اور حضور کی صحت و سلامتی اور درازی عمر کی دعائیں کرتے ہوئے گھروں کو واپس لوٹے۔حضورانور کے ہمراہ حضرت منصورہ بیگم صاحب حرم سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر نیز آپ کی بیگم آمنہ طیبہ صاحبہ بھی واپس ربوہ تشریف لائی ہیں اور اس طرح قافلہ کے باقی دوارکان چوہدری محمد علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اور عبدالمنان صاحب دہلوی بھی۔مزید برآں مرکزی وفد کے ارکان مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل، میاں عبدالرحیم